تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 64
کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا، کس قدر مضحکہ خیز ہو جاتا تھا۔وہ ہنس کرکہتے کہ(۱) تم تو خود ایک مسیح کی آمد کے معتقد ہو۔(۲) کَے آمدی وکَے پیرشُدی ابھی آپ کے رسول کو آئے ہوئے کتنی مدت ہوئی کہ کہتے ہو ان کے بعد نبی نہ آئے گا۔گذشتہ انبیاء کے بعد بھی تو فوراً نبی نہ آیا کرتے تھے بالعموم ایک عرصہ کے بعد نبی آتے تھے تمہارے نبی مسیح علیہ السلام کے چھ سو سال بعد آئے ہیں چھ سو سال تو انتظار کرو۔اس کا جواب مسلمان کیا دےسکتے تھے۔گویا ختم نبوت کے اس مفہوم کے منوانے کے لئے چھ سو سال کا انتظار ضروری تھا چھ سو سال تک آپ کا ختم نبوت کا دعویٰ بے دلیل رہتا تھا۔مگر چھ سو سال کے بعد بھی تو مسلما ن کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ یہ دلیل نصاریٰ و یہود کی پھر بھی موجود تھی کہ تم اس آنے والے نبی کے حق میں کیا کہتے ہو جسے تم مسیح کا نام دیتے ہو اور پھر وہ اس وقت کہہ سکتے تھے کہ موسٰی کے مرنے کے چند سال بعد یوشعؑ نبی ظاہر ہوا۔لیکن یوسف نبی کے اڑھائی تین سو سال بعد موسٰی نبی ظاہر ہوئے۔حتی کہ بنی اسرائیل نے کہنا شروع کر دیا کہ اب یوسفؑ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔پس معلوم ہوا کہ کبھی ایک نبی کے بعد جلد دوسرا نبی آجاتا ہے اور کبھی لمبے وقفہ کے بعد۔خود تمہارے نبی تمہارے اپنے دعویٰ کے مطابق حضرت مسیح کے چھ سو سال بعد آئے پس صدیوں کا خالی گذر جانا تو کوئی ثبوت نہیں کہ فلاں مدعی کےبعد کوئی نبی نہ آئے گا۔غرض گو یہ درست ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہ آئے گا۔مگر دشمن پر ہم ان معنوں میں نبی کریمؐ کی فضیلت کو ثابت نہیںکر سکتے اور قیامت تک ختم نبوت کا یہ مفہوم ایک دشمن اسلام پر بطور حجت کے ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ آپ آخری نبی ہیں۔پس ختم نبوت کے اگر یہ معنے لئے جائیں تو ختم نبوت کی فضیلت جو آنحضرتؐکی سب سےبڑی فضیلت ہے پردۂ اخفا میں ہی قیامت تک چلی جائے گی اور قیامت کو اس کا ثابت ہو نا کسی کے لئے بھی فائدہ بخش نہ ہو گا۔ہاں اگر ختم نبوت کے یہ معنے کئے جائیں کہ پہلے نبی ایک ایک قوم کے نبیوں کی تعلیم کو ختم کرتےتھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب دنیا کے اور سب قوموں کے نبیوں کی نبوت کو ختم کیا ہے تو یہ دعویٰ آپ کا پہلے دن سے ہی ثابت کیا جا سکتا تھا اور اب تک اور قیامت تک ثابت کیا جاسکتا ہے۔اس دعویٰ میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کیونکہ سچے نبی کی علامت سابق کتب اور قرآن کریم اور عقل سے یہ معلوم ہو تی ہے کہ اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو اور اس کے تعلق کی نسبت سے اس کے پیرؤوں کا بھی خدا تعالیٰ سے تعلق ہو، تامنکروں پر حجت قطعیہ سے ثابت کیا جا سکے کہ اس کا منجانب اللہ ہو نے کا دعویٰ سچا اور حق پر مبنی ہے۔اب اس دلیل کو اگر صحیح سمجھا جائے اور اس کے صحیح ہو نے میں کوئی شبہ نہیں سمجھا جاسکتا تو ایک مسلمان سب مذاہب کے لوگوں کو پہلے دن سے چیلنج دے سکتا تھا کہ ہمارے نبی کے خاتم النبیین ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس