تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 65

نے سب نبیوں کی نبوت کو ختم کر دیا ہے اب کسی نبی کی امت میں کوئی شخص خدا رسیدہ نہیں ہوسکتاصرف آپ ہی کے اتباع کا براہ راست تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔سیدھی بات ہے کہ یا تو اسلام کے منکر اس کا یہ جواب دیتے کہ خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہوہی نہیں سکتا اور یا یہ جواب دیتے کہ ہمارے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہے۔دونوں صورتوں میں فیصلہ آسان ہو جاتا ہے۔پہلے جواب کی صورت میں مسلمان آسانی سے اپنے برگزیدہ وجودوں کے نشانات پیش کر کے ثابت کر سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ہم سے براہ راست تعلق ہے اور چونکہ دوسرے مذاہب کے لوگ اس راستہ کو بند قرار دے چکے ہو تے لازماً اس ثبوت کے ساتھ یہ بھی ثابت ہوجاتا کہ خدا تعالیٰ کا براہ راست تعلق انبیاء کی جماعتو ں سے ضرور ہو تا ہے مگر اس وقت وہ تعلق صرف امت محمدیہ سے ہے اور کسی امت کے افراد سے نہیں۔پس معلوم ہوا کہ ان نبیوں کی نبوت ختم ہو چکی اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت جاری ہے اور آپ کا ختم نبوت کا دعویٰ ثابت ہو جاتا اور دوسرے جواب کی صورت میں مسلمان ان لوگوں سے مطالبہ کرتے کہ اپنے موجودہ بزرگوں کے الہامات اور وحی کو پیش کرو تاکہ ان کے صدق و کذب کو پرکھا جا سکے اور چونکہ فی الواقعہ دعویٰ محمدیت کے بعد باقی تمام اقوام سے براہ راست تعلق (سوائے ایک عارضی تعلق کے ) خدا تعالیٰ کا قطع ہو چکا ہے اس لئے لازماً وہ لوگ اس مطالبہ کو پورا نہ کر سکتے تھے اور اس طرح بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ختم نبوت کا دعویٰ ثابت ہو جاتا تھا اور یہ معنے جو میں نے کئے ہیں صرف ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک نشان اور آیت ہے۔کیونکہ محض دعویٰ وہ ہو تا ہے جسے انسان اپنی طرف سے پیش کرتا ہے اور خارج میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔لیکن نشان اور آیت کا ثبوت خارج میںموجود ہوتا ہے اور ختم نبوت کے وہ معنے جو میں نے اوپر کئے ہیں وہ ایسے معنے ہیں کہ ان کا وجود خارج میں موجود تھا اور مسلمانوں اور غیر اقوام میں دونوں میں موجود تھا مسلمانوں میں مثبت حیثیت سے اور غیر مسلموں میں منفی کی حیثیت میں۔ختم نبوت کے دوسرے معنے کمال نبوت کے ہیں اور یہی معنے متبادر ہیں کیونکہ ختم نبوت کی آیت میں خاتم تا کی زبر سے آیا ہے او رخاتم تا کی زبر سے آئے تو اس کے معنے مہر کے ہو تے ہیںاور مہر تصدیق کے لئے لگائی جاتی ہے پس خاتم النبیین کے معنے ہوئے کہ یہ نبی نبیوں کی مہر ہے اس کی تصدیق کے بغیر کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔یہ معنے بھی ہروقت ثابت تھے۔سابق نبیوں کے بارہ میں اس طرح کہ کسی نبی کی نبوت قرآن کریم کی شہادت کے بغیر ثابت نہیںہو سکتی۔مسیحؑ کو انجیل سے، موسٰی کو تورات سے، کرشنؑ اور رامچندرؑ کو ان کی کتب سے، زردشتؑ کو اوستا سے سچا نبی ثابت نہیں کیا جا سکتا۔قرآنی دلائل اور نشانات سے ہی ان لوگوں کی سچائی ثابت کی جا سکے گی اور آئندہ کوئی نبی آئے تو