تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 51

شاہان عرب میں یہ رواج تھا کہ وہ بڑے بڑے ادیبوں کو وزیر مقرر کیا کرتے تھے۔ایک بادشاہ کا وزیر بات کرتے وقت ہکلاتا تھا اور وہ ’’ر‘‘ نہیں بو ل سکتا تھا جیسے بعض بچے ’’ر‘‘ کی جگہ ’’ل‘‘ بول دیتے ہیں مثلاً ’’میری کتاب‘‘ کہنا ہو تو وہ کہیں گے ’’میلی کتاب‘‘ اسی طرح وہ وزیر بھی ’’ر‘‘ کی بجائے ’’ل‘‘ بولتا تھا۔کسی نے بادشاہ کو طعنہ دیا کہ تو نے بڑا ادیب رکھا ہوا ہے اس کی تو زبان میں نقص ہے اگر کوئی بادشاہ تمہارے پاس آگیا تو تمہاری ذلت ہو گی۔بادشاہ نے کہا مجھے تو ابھی تک محسوس نہیں ہوا کہ میرا وزیر یہ نقص اپنے اندر رکھتا ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہروقت میرے پاس رہے اور مجھے اس کے اس نقص کا علم نہ ہو۔اس شخص نے کہا میں اس کا ثبوت بہم پہنچا دیتا ہوں آپ اسے ’’ر‘‘ والے الفاظ لکھوا کر دیکھ لیں۔بادشاہ نے وزیر کا امتحان لینے کے لئے ایک فقرہ بنایا اور اسے بلایا۔اس وقت یہ دستور تھا کہ بادشاہ وزراء کو آرڈر دیتے تھے اور وزیر آگے آرڈر دیا کرتا تھا۔اگر کاتب کو کوئی چیز لکھوانی ہوتی تھی تو بادشاہ بولتا جاتا تھااور وزیر آگے کاتب کو لکھواتا جاتا تھا۔کاتب کی یہ شان نہیں ہو تی تھی کہ وہ بادشاہ سے براہ راست مخاطب ہو بادشاہ نے کہا لکھو اَمَرَ اَمِیْـرُ الْاُمَرَآءِ اَنْ یُّـحْفَـرَ الْبِئْـرُ فِی الطَّرِیْقِ لِیَشْـرَبَ مِنْہُ الْمَآءَ الصَّادِرُ وَالْوَارِدُ یعنی بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ فلاں راستہ میں ایک کنواں کھو دا جائے تاکہ شہر سے باہر جانے والے اور شہرکی طرف آنے والے سب لوگ اس سے پانی پی سکیں۔اس فقرہ میں اس نے سب ’’ر‘‘ والے الفاظ جمع کر دیئے بادشاہ سے سن کر وزیر نے فوراً یہ حکم اس طرح لکھوانا شروع کیا حَکَمَ حَاکِمُ الْـحُکَّامِ اَنْ یُّقْلَبَ الْقَلِیْبُ فِی السَّبِیْلِ لِیَنْتَفِعَ مِنْہُ الصَّادِیْ وَالْبَادِیْ۔بادشاہ سخت حیران ہوا شکایت کرنے والا بھی پاس کھڑا تھا اس نے کہا دیکھا یہ ’’ر‘‘ نہیں بول سکتا۔بادشاہ نے کہا مجھے تو وزیر کے کسی نقص کا پتہ نہیں لگا اس کے کمال کا پتہ لگا ہے۔مجھے تو حیرت ہے کہ کتنی جلدی اس نے میرے حکم کو دوسرے الفاظ میں بدل دیا جس کے بعینہٖ وہی معنے ہیں میں ایسا قابل آدمی نہیں چھوڑ سکتا پس حکم کے الفاظ کو سننے والا بدل سکتا ہے اور اس میں غلطیاں بھی ہوسکتی ہیں جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں فلاں حدیث باللفظ ہے اور فلاں حدیث بالمعنیٰ۔محدث کہتے ہیں کہ حدیث باللفظ وہ ہوتی ہے جس میں بعینہٖ وہی الفاظ ہوں جو دوسرے سے سنے ہوں۔مثلاً ایک روایت کو شام والوں نے بھی بیان کیا ہو، بخارا والوں نے بھی بیان کیا ہو، مصر والوں نے بھی بیان کیا ہو اور اس کے الفاظ ایک ہی ہوں اور ہم یہ کہہ سکیں کہ یہ وہی الفاظ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے گئے ہیں تو یہ روایت باللفظ ہو گی۔ایسی حدیثیں عموماً چھوٹی چھوٹی ہو تی ہیں جن کا یاد رکھنا آسان ہو تا ہے یا ان میں وزن ہو تا ہے جس کی وجہ سے وہ آسانی سے یاد ہو جاتی ہیں۔مثلاً ایک حدیث ہے کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْـزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْـمٰنِ سُـبْحَانَ اللہِ وَبِـحَمْدِہٖ سُبـْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ۔(بخاری کتاب الایمان والنذور باب اذا قال واللہ لا اتکلم الیوم۔۔۔۔) یعنی دو کلمےایسے ہیں جن کا زبان سے ادا کرنا بہت آسان ہے مگر میزان میں وہ بہت بھاری ہیں اور خدائے رحمان کو بہت محبوب ہیں۔وہ کلمے یہ ہیں سُـبْحَانَ اللہِ وَبِـحَمْدِہٖ سُبـْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ۔اس حدیث کاوزن ایسا ہے کہ دماغ پر بغیر کسی قسم کا بوجھ ڈالنے کے یاد ہوجاتی ہے۔پس مختلف راویوں سے جو روایت ایک ہی الفاظ میں پہنچی ہو اسے روایت باللفظ کہتے ہیں اور روایت بالمعنیٰ وہ ہوتی ہے جس کو بیان کرتے وقت راوی نے اپنے الفاظ استعمال کئے ہوں۔غرض موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جس کے معنے حکم کے ہو تے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام دیئے جن میں سے آپ کو کچھ احکام تو لفظاً لفظاً یاد رہ گئے اور باقی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا اور وہ تورات میں درج ہو گئے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ دیا گیا جس کے الفاظ اوّل سے آخر تک وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔گویا سورۃ فاتحہ کی ’’ب‘‘ سے لے کر سورۃ النّاس کی ’’س‘‘ تک نہ کوئی لفظ ایسا ہے اور نہ کوئی زیر اور زبر جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے شامل کر دیا ہو۔بلکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں۔یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتنی بڑی فضیلت ہے کوئی عیسائی یا یہودی تورات کے متعلق قسم نہیںکھا سکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔کوئی عیسائی یا یہودی بھلا یہ قسم کھا کر کہہ تو دے کہ میرے بیوی بچو ں کو خدا تعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی ان پر لعنت ہو اگر تورات کے الفاظ وہی نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اترے تھے۔کوئی عیسائی یا یہودی ایسی قسم نہیں کھا سکتا۔لیکن ہم قرآن کریم کے متعلق یہ قسم کھاکر کہہ سکتے ہیں آج بھی اور آئندہ بھی کہ اگر یہ وہی الفاظ نہ ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے تو ہمارے بیوی بچوں کو خدا تعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی ان پر لعنت ہو۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہےجو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہوئی۔