تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 50
چلے گا ادھر ہی ہمارا تیر چلے گا۔یہ تو دشمن کےمقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا سلوک تھا۔اب دوستی کا حال دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ (الفتح:۱۱) تیری بیعت کرنے والوں اور تیری غلامی میں شامل ہو نے والوں پر ہمارا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا ہے۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ دونوں ایک ہو گئے تھے اس طرح کہ اگر تیر چلتا تھا تو دونوں کا ایک طرف چلتا تھا اور اگر کسی طرف نگاہِ لطف اٹھتی تھی تودونوں کی اسی طرف اٹھتی تھی۔یہ کتنی بڑی تجلی ہے جواللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کی۔اس کے مقابلہ میں موسوی تجلی کیا حقیقت رکھتی ہے۔اٹھارھویں فضیلت (۱۸)حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صرف کتاب ملی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب کے علاوہ کلام اللہ بھی دیا گیا اور ان دونوںمیں بڑا بھاری فرق ہے۔کتاب کے معنے حکم کے ہو تے ہیں اوراسے دوسرے الفاظ میں بھی تبدیل کیاجا سکتا ہے لیکن کلام اللہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔گویا کتاب کے مفہوم میں الفاظ کی شرط نہیں مگر کلام اللہ میں الفاظ کی شرط ہے۔شاہان عرب میں یہ رواج تھا کہ وہ بڑے بڑے ادیبوں کو وزیر مقرر کیا کرتے تھے۔ایک بادشاہ کا وزیر بات کرتے وقت ہکلاتا تھا اور وہ ’’ر‘‘ نہیں بو ل سکتا تھا جیسے بعض بچے ’’ر‘‘ کی جگہ ’’ل‘‘ بول دیتے ہیں مثلاً ’’میری کتاب‘‘ کہنا ہو تو وہ کہیں گے ’’میلی کتاب‘‘ اسی طرح وہ وزیر بھی ’’ر‘‘ کی بجائے ’’ل‘‘ بولتا تھا۔کسی نے بادشاہ کو طعنہ دیا کہ تو نے بڑا ادیب رکھا ہوا ہے اس کی تو زبان میں نقص ہے اگر کوئی بادشاہ تمہارے پاس آگیا تو تمہاری ذلت ہو گی۔بادشاہ نے کہا مجھے تو ابھی تک محسوس نہیں ہوا کہ میرا وزیر یہ نقص اپنے اندر رکھتا ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہروقت میرے پاس رہے اور مجھے اس کے اس نقص کا علم نہ ہو۔اس شخص نے کہا میں اس کا ثبوت بہم پہنچا دیتا ہوں آپ اسے ’’ر‘‘ والے الفاظ لکھوا کر دیکھ لیں۔بادشاہ نے وزیر کا امتحان لینے کے لئے ایک فقرہ بنایا اور اسے بلایا۔اس وقت یہ دستور تھا کہ بادشاہ وزراء کو آرڈر دیتے تھے اور وزیر آگے آرڈر دیا کرتا تھا۔اگر کاتب کو کوئی چیز لکھوانی ہوتی تھی تو بادشاہ بولتا جاتا تھااور وزیر آگے کاتب کو لکھواتا جاتا تھا۔کاتب کی یہ شان نہیں ہو تی تھی کہ وہ بادشاہ سے براہ راست مخاطب ہو بادشاہ نے کہا لکھو اَمَرَ اَمِیْـرُ الْاُمَرَآءِ اَنْ یُّـحْفَـرَ الْبِئْـرُ فِی الطَّرِیْقِ لِیَشْـرَبَ مِنْہُ الْمَآءَ الصَّادِرُ وَالْوَارِدُ یعنی بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ فلاں راستہ میں ایک کنواں کھو دا جائے تاکہ شہر سے باہر جانے والے اور شہرکی طرف آنے والے سب لوگ اس سے پانی پی سکیں۔اس فقرہ میں اس نے سب ’’ر‘‘ والے الفاظ جمع کر دیئے بادشاہ سے سن کر وزیر نے فوراً یہ حکم اس طرح لکھوانا شروع کیا