تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 52
یہودی بھلا یہ قسم کھا کر کہہ تو دے کہ میرے بیوی بچو ں کو خدا تعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی ان پر لعنت ہو اگر تورات کے الفاظ وہی نہ ہوں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اترے تھے۔کوئی عیسائی یا یہودی ایسی قسم نہیں کھا سکتا۔لیکن ہم قرآن کریم کے متعلق یہ قسم کھاکر کہہ سکتے ہیں آج بھی اور آئندہ بھی کہ اگر یہ وہی الفاظ نہ ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے تھے تو ہمارے بیوی بچوں کو خدا تعالیٰ تباہ کرے اور اگلے جہان میں بھی ان پر لعنت ہو۔یہ کتنی بڑی فضیلت ہےجو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہوئی۔(۲)علاوہ مذکورہ بالا معجزات و کرامات کے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف قرآن کریم اور بائیبل میں منسوب کی گئی ہیں اور جن میں مقابلہ کر کے ہم نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ملا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بہت زیادہ تھا۔ایک اور ذریعہ مقابلہ کا بھی ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ملتا ہے۔حضرت ابراہیمؑ کی آنحضرتؐکے متعلق دعا سورۂ بقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر آتا ہے جو انہوں نے بنو اسمٰعیل کے موعود نبی کی نسبت کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔(البقرۃ:۱۳۰) اے ہمارے رب تو ان لوگوں میں اپنا ایک رسول مبعوث فرماجو ان پر تیری آیا ت کی تلاوت کرے۔انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ نفوس کرے تو بڑا غالب اور حکمت والا خدا ہے۔حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور کوثر کا تعلق یہ دعا جو سورۂ بقرہ میں آئی ہے اس میں درحقیقت انبیاء کے فرائض اور ان کے مخصوص کام کا ذکر ہے اور سورۂ کو ثر میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نہ صرف یہ کہ ابراہیمؑ کی یہ دعا پو ری ہوئی بلکہ انتہائی کمال یا کوثر ان صفات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا۔اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف تلاوتِ آیات کی، نہ صرف تعلیمِ کتاب کی، نہ صرف تعلیمِ حکمت کی، نہ صرف تزکیۂ قوم کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں صفات میں آپ کو کوثر عطا فرمایا ہے اور اس طرح تمام انبیاء سابقین پر آپ کو فضیلت عطا فرما دی گئی ہے۔میرے نزدیک قرآن کریم کی بعض آیات دوسری آیا ت کے لئے بطور کنجی ہو تی ہیں جن سے سارامضمون نکل آتا ہے جس طرح تمام صورتوں کی ایک مشترک کنجی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ہے اسی طرح ہر سورۃ میں