تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 46
لے اور اس سے جہاد کرتا چلا جا۔مادی تلواروں کی لڑائیاں تو معمولی ہو تی ہیں اور جلد ختم ہو جاتی ہیں مگر قرآن کریم ایک ایسی تلوار ہے جو دشمن کے مقابلہ میں ہمیشہ کام آنے والی ہےاور جس کے اثرات رحمت کی صورت میں ہی ظاہر ہو تے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو بار بار رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے اور آپ نے تعلیم بھی ایسی ہی دی ہے جس میں نرمی اور محبت کو تعذیب اور انتقام پر ترجیح دی گئی ہے۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم یہ تھی کہ اگر تمہیں کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی اسے تھپڑ مار و۔اگر کوئی شخص تمہاری آنکھ نکال دے تو تم بھی اس کی آنکھ نکال دو۔اگر کوئی شخص تمہارا دانت توڑدے تو تم بھی اس کا دانت توڑ دو۔مگر اسلام کہتا ہے کہ تم جو بھی قدم اٹھاؤ سوچ سجھ کر اور حالات کو دیکھ کر اٹھا ؤ اگر مصلحت اس میں ہو کہ معاف کر دیا جائے تو اپنے دشمن کو معاف کر دو۔اسے سزا دینے پر اصرار نہ کرو۔کیونکہ تمہاری غرض محض اصلاح ہو نی چاہیے نہ کہ انتقام۔تیرھویں فضیلت (۱۳)حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ید بیضا کا معجزہ دیا گیا تھا یعنی آپ کا ہاتھ کبھی کبھی چمکا کرتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سِرٰجًا مُّنِیْرًا (الاحزاب:۴۷) کہا ہے اور سورج سارا چمکا کرتا ہے اس کا کوئی ایک حصہ نہیں چمکا کرتا گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا صرف ہاتھ چمکا کرتا تھا۔مگر آپؐکا سارا جسم روشن اور منور تھا۔پھر سورج ہر وقت روشنی دیتا ہے کبھی کبھار نہیں۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہاتھ صرف کبھی کبھی چمکتا تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور میں راہنما تھے اور ہر وقت آپ کی راہنمائی قائم رہنے والی ہے یہ نہیں کہ کبھی ختم ہو جائے اور کبھی شروع ہو جائے۔چودھویں فضیلت (۱۴)حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صرف بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ (سبا:۲۹) ہم نے تجھے تمام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے بھیجا ہے۔یہ بھی آپ کی فضیلت اور برتری کی ایک روشن دلیل ہے۔پندرھویں فضیلت (۱۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک یہ معجزہ دیا گیا تھا کہ آپ کی قوم کے پلوٹھے مرے۔پلوٹھوں کا مرنا کوئی بڑا نشان نہیں۔مرتا تو ہر ایک ہی ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معجزہ دیا گیا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے پلوٹھے ہی نہیں مرے بلکہ ان کی ساری اولادیں ہی مر گئیں اور پھر زندہ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں۔کتنا بڑا دشمن تھا ولید۔وہ آپ سے لڑنے کے لئے قبائل کو اکساتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالو۔پھر کتنا بڑا دشمن تھا عاص بن وائل۔