تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 45
ہی آتا ہے۔آپ فرماتے ہیں ؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے اس پر لوگ یہ اعتراض کر تے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے آپ کو ابن مریم ؑ سے افضل بتایا ہے۔حالانکہ آپ نے اپنے آپ کو ابن مریمؑ سے افضل نہیں بتایا بلکہ احمد ؐ کے غلام کو افضل قرار دیا ہے اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔یہاں احمد سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام بھی بڑا ہے اور جس کا غلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑا ہو اور افضل ہو وہ خود تو ان سے بدر جہا افضل ہو گا۔غرض حضرت موسیٰ علیہ السلام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ موسوی سلسلہ کے آخری خلیفہ کی جماعت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے سلسلہ کے بانی سے افضل قرار دے دیا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خلیفہ نے اپنے آقا کی شان اور عظمت کو قائم کیا اور اس نے دنیا میں بڑے زور سے یہ اعلان کیا کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے ہی پایا ہے۔گیارھویں فضیلت (۱۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جتنے نبی آئے وہ مستقل نبی تھے۔گو وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے مگرنبوت کا مقام انہوں نے براہ راست حاصل کیا تھا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے توسط کے بغیر انہیں یہ مقام ملا تھا۔موسوی تعلیم ایسی نہ تھی کہ وہ کسی کو نبوت کے مقام تک پہنچا سکتی۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپؐکے اتباع خواہ نبی ہوں آپؐکے فیض سے نبی بننے والے ہیں اور انہیں جو کچھ ملے گا فیض محمدی سے ہی ملے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تو تھے مگر نبوت کے مقام پر وہ براہ راست پہنچے تھے۔موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں یہ خوبی نہ تھی کہ وہ کسی کو نبوت کے مقام تک پہنچا سکے لیکن قرآن مجید میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ اس پر عمل کر نے سے انسان نبوت کے مقام پر بھی پہنچ سکتا ہے مگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع اور قرآن کریم کا خادم ہی رہتا ہے۔بارھویں فضیلت (۱۲)حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا ملا جو بعض اوقات سانپ بن جاتا تھا جو ایک کاٹنے والی چیز ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شمشیر قرآن ملی جو ہمیشہ رحمت ہی رحمت بنی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس شمشیر کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا (الفرقان:۵۳) تو قرآن کریم کو