تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 47

وہ ہر وقت آپ کے خلاف منصوبے سوچتا رہتا تھا اور لشکر تیار کروایا کرتا تھا۔پھر کتنا بڑا دشمن تھا ابو جہل۔اس نے اپنی ساری عمر ہی آپ کے مقابلہ میں گذار دی۔لیکن ولید کا بیٹا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایسا ایمان لایا کہ اس کا نام مسلمان بطور یادگار کے استعمال کرتے ہیں۔وہ اپنے بیٹوں کا نام خالد رکھتے ہیں اور غیر مسلموں کو ڈراتے ہیں کہ اب بھی ہم میں خالد موجود ہیں۔یہ خالد ؓ اس ولید کا بیٹا تھا جس نے قسم کھائی تھی کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلیل کر کے رہوں گا اور یہ خالد ؓ وہی شخص ہے جس نے اُحد کے موقع پر تاڑلیا تھا کہ مسلمانوں کی پشت ننگی ہے اور اس نے موقع پا کر اوپر سے حملہ کر دیا جس سے مسلمانوں کی فتح عارضی طور پرشکست سے بدل گئی۔مگر پھر یہی خالد ؓ اسلام میں داخل ہوئے اور ایسے فدائی اور جان نثار ثابت ہوئے کہ تاریخ بتاتی ہے جب خالد ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ایک دوست جو ان سے ملنے کے لئے آیا ہوا تھا اس نے دیکھا کہ خالد ؓ رو رہے ہیں اس نے تعجب سے کہا خالد ؓ تمہارا رونے سے کیا کام؟ تم نے اسلام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں اب تمہیں خوش ہو نا چاہیے کہ تمہیں بڑے بڑے انعامات ملیں گے خالدؓ نے کہا ذرا آگے آؤاور میری پیٹھ پر سے کپڑا اٹھاؤ۔اس نے کپڑا اٹھایا تو خالد ؓ نے کہا، کیا میری پیٹھ پر کوئی جگہ ایسی ہے جہاں زخم کا نشان نہ ہو؟ اس نے کہا نہیں کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جہاں تلوار کے زخم کے نشان نہ ہوں۔خالدؓ نے کہا اچھا اب میرے سینے پر سے کپڑا اٹھاؤ۔اس نے آپ کے سینے پر سے کپڑا اٹھایا۔خالد ؓ نے کہا دیکھو میرے سینہ اور پیٹ پر کوئی جگہ ایسی ہے جہاں تلوار کے زخم کا نشان نہ ہو؟ اس نے کہا نہیں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں زخم کا نشان نہ ہو۔انہوں نےکہا اچھا اب میری دائیں ٹانگ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھو کہ کیا میری ٹانگ اور پاؤں پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تلوار کے زخم کے نشان نہ ہوں؟ اس نے کپڑا اٹھا کر دیکھا اور کہا ہر جگہ تلوار کے زخموں کے نشان ہیں۔انہوں نے کہا اچھا اب میری دوسری ٹانگ دیکھو اس نے دوسری ٹانگ دیکھی تو وہاںبھی کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں تلوار کے زخم کے نشانات نہ ہوں۔جب وہ اپنے جسم کے تمام نشانات دکھا چکے تو خالد ؓ پھر رو پڑے اور انہوں نے کہا اے میرے دوست میں اس لئے نہیں روتا کہ میں مرنے لگا ہوں بلکہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کفرکی حالت میں مقابلہ کیا۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی او رمیں نے کوشش کی کہ میں اپنا اور اپنے خاندان کا کفارہ شہادت سے ادا کروں اور تم گواہی دے سکتے ہو کہ میں نے اس میں کوئی کمی نہیں کی۔میرے سر سے پاؤں تک ایک انچ بھی ایسی جگہ نہیں جہاں زخم کا نشان نہ ہو۔پھر آپ کی ہچکی بندھ گئی اور آپ نے سسکیاں بھرتے ہوئے فرمایا میری بدقسمتی کہ میں اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوا اور بجائے میدان جنگ میں شہید ہو نے کے میں اب چارپائی پر مررہا ہوں(اسد الغابۃ خالد بن الولید)۔یہ کتنا عظیم الشان نشان تھا جو