تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 429
کے دنیا کو منور کرتا ہے۔اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ چاند سورج سے روشنی حاصل نہ کرسکے اور تاریک ہوجائے تویہ حالت بھی وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے ماتحت آئے گی۔پس وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں گو دعا سکھائی گئی ہے۔لیکن اس میں یہ پیشگوئی ہے کہ ایک زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور بھی لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہوجائے گا اور نہ صرف یہ کہ آپ کا نور عوام الناس نہیں دیکھ سکیں گے بلکہ آپ کے نور کو اپنے اندر جذب کر کے اسے دنیا میں پھیلانے والے صلحاء اور اولیاء جو قمر کا درجہ رکھتے ہیں وہ بھی موجود نہیں ہوں گے اور تاریکی ہی تاریکی چھا جائے گی۔پس ایسے وقت میں جو شر اُمت مسلمہ کو پہنچ سکتا ہے اس سے بچنے کے لئے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔باء۔ظاہری لحاظ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس آیت میں سورج اور چاند کو گرہن لگنے کی طرف اشارہ ہے اور بتایا ہے کہ جب ایسا زمانہ آئے تو اس کے شرور سے پناہ چاہو۔احادیث میں یہ بات پوری وضاحت سے بیان ہوئی ہے کہ اُمت محمدیہ پر روحانی اور جسمانی ترقیات کے بعد ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے جب کہ وہ تنزّل کے گڑھے میں گرجائے گی اور اسلام کا صرف نام ان میں باقی رہ جائے گا اور قرآن کریم صرف اوراق میں ہوگا لیکن اس پر عمل نہیں کیا جائے گا(مشکوٰۃ کتاب العلم )۔ہر قسم کی خرابی ان میں پھیل جائے گی اور ان کی وہ حکومتیں اور شان وشوکت جو قرآن کریم کی بدولت ان کو ملی تھیں ختم ہوجائیں گی۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اُمت محمدیہ کی دستگیری فرمائے گا اور ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو مسیح او رمہدی کا نام پائے گا اور اس کے ذریعہ اسلام ہر حیثیت سے غالب ہوجائے گا اور اس کی مٹی ہوئی عظمت پھر سے قائم ہو جائے گی۔مہدی اور مسیح کے مبعوث ہونے کے وقت کئی نشانات ظاہر ہوں گے اوران میں سے ایک نشان سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں گرہن لگنے کا بھی ہے۔چنانچہ فرمایا اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا اٰیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْکَسِفُ الشَّمْسُ فِی النِّصْفِ مِنْہُ۔(دار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ الکسوف و الـخسوف) یعنی جب ہمارا مہدی دین اسلام کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے مبعوث ہوگا تو اس وقت اس کے دعویٰ کے ثبوت کے لئے دونشان ظاہر ہوں گے اور یہ نشان کسی مدعی کی صداقت کے لئے مقرر نہیں کئے گئے۔پہلا نشان تو یہ ہے کہ چاند کو اس کی گرہن کی تاریخوں میں رمضان کے مہینہ میں پہلی تاریخ کو گرہن لگے گا اور اسی مہینہ میں سورج کو اس کی گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ کو گرہن لگے گا۔