تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 430

اس حدیث میں سورج اور چاند گرہن کے متعلق ایک خاص پیشگوئی کی گئی ہے۔پس مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں اس بات کے لئے دعا سکھائی گئی ہے کہ جب ایسا زمانہ آئے کہ اسلام کمزوری کی حالت میں ہو اور اللہ تعالیٰ مہدی اور مسیح کو دین اسلام کی عظمت قائم کرنے کے لئے کھڑا کرے تو اس زمانہ کے شرور سے اللہ تعالیٰ بچائے اور اس کے اعوان و مددگار وں سے بنائے اور اس کے مخالف لوگوں پر جو عذاب آئیں گے اللہ تعالیٰ ان سے محفوظ رکھے۔(۴) جیسا کہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کی تفسیر میں لکھا جاچکا ہے۔ان آیات میں ان کمزوریوں سے بھی پناہ کی دعا سکھائی گئی ہے جو خَلقی طور پر رہ جاتی ہیں۔اور کمال کے حصول میں روک بن جاتی ہیں۔ان آیات کے بعد مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں انجام کی خرابی سے بچنے کے لئے دعا سکھائی۔کیونکہ کبھی ابتدا تو اچھی ہوتی ہے لیکن انتہا خراب ہوجاتی ہے۔بعض اوقات ایسی بے موقعہ اور بے محل انتہا ہوتی ہے کہ بجائے اس کے کہ نیکی قائم رہے بربادی ہوجاتی ہے۔اسی وجہ سے اس آیت میں انسانی زندگی کی درمیانی حالت کو چھوڑ کر انتہا کو لے لیا یعنی مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں ابتدا کو لیا اور اس کے بعد درمیانی حالت کو بیان نہیں فرمایا بلکہ انتہا کو لے لیا اور فرمایا وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کہ وہ ڈوبنے والی اور آنکھوں سے اوجھل ہونے والی چیز جو گڑھے میں چلی جاتی ہے یعنی جبکہ انسان مرجاتا ہے زمین میںدفن ہوجاتا ہے۔اس وقت کے بدنتائج سے بھی پناہ مانگتا ہوں جس طرح پیدائشی کمزوریوں سے جو میرے لئے روک ہو سکتی تھیں پناہ مانگتا ہوں۔اسی طرح اس سے بھی پناہ مانگتاہوں کہ ایسی حالت نہ پیداہوجائے کہ میرے مرنے سے ایسے نقائص پیدا ہوجائیں جن سے دین کو نقصان پہنچے یا میرے کام ادھورے رہ جائیں اور ان کا انجام اچھا ہونے کی بجائے برا ہو جائے۔دنیا میں موتیں بھی بدیوں کا باعث ہو جاتی ہیں۔انسان ایک کام پور انہیں کرنے پاتا کہ مرجاتا ہے۔بعد میں اس کام سے کوئی نیک نتیجہ نکلنے کی بجائے برے نتائج نکلنے لگتے ہیں۔اس لئے فرمایا دعا کرو کہ مرنے والوں کے ساتھ جو بدیاں تعلق رکھتی ہیں یعنی مرنے کے بعد جو پیدا ہو سکتی ہیں ان سے بھی بچائے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے کاموں کو پورا کرے گا اور میرا انجام نہایت خوش کن ہوگا۔چنانچہ ۱۹۴۲ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً فرمایا :۔مَوْتُ حَسَنٍ مَوْتٌ حَسَنٌ فِیْ وَقْتٍ حَسَنٍ کہ حسن کی موت بہترین موت ہوگی اور ایسے وقت میں ہوگی جو بہتر ہوگا۔اس الہام میں مجھے حسن رضی اللہ عنہ کا بروز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کو پورا کرے گا۔اور میرا انجام بہترین انجام ہوگا اور جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی۔فالحمد للہ علی ذالک۔