تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 428
ایسا سبب پیدا نہ ہو جس سے وہ تباہی کے گڑھوں میںجاگریں۔اور اگر کوئی ایسی بات مسلمانوں کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کی خود دستگیری فرمائے اور ایسے حالات پیدا کردے کہ پھر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روشن چہرہ دنیا دیکھنے لگے اور تنزّل کے دن ترقی سے بدل جائیں۔(۲) غَسَقَ کے ایک معنے کسی چیز کی کثرت کے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں غَسَقَتِ السَّمَآءُ غَسْقاً اَیْ اِنْصَبَّتْ وَاَرَشَّتْ کہ بادلوںمیں اتنا پانی تھا کہ وہ زور سے بہہ پڑے اوراسی طرح آنکھ جب آنسوئوں سے ڈبڈبا آئے اور خودبخود آنسو بہنے لگیں تو اس وقت بھی غَسَقَ کا لفظ استعمال کیا جاتاہے۔پس ان معنے کے اعتبار سے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے معنے ہوں گے کہ آسودگی کے بعد تنگی سے میں پناہ چاہتا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ کبھی دولت کی زیادتی خراب کرتی ہے اور کبھی دولت کی کمی۔جیسے کبھی نور کی زیادتی کی وجہ سے آنکھیں ماری جاتی ہیں اور کبھی تاریکی کی وجہ سے آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔سورج کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے والا بھی اپنی آنکھیں کھو بیٹھتا ہے اور اندھیرے میں رہنے والوں کی بھی آنکھیں ماری جاتی ہیں جب تک درمیانی راہ اختیا رنہ کی جائے چین و آرام حاصل نہیں ہوسکتا پس مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں تو مال کی زیادتی اور اس کے نقصان سے بچنے کے لئے دعا سکھائی اور مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں مال کی کمی کے نقصانات سے محفوظ رہنے کی طرف اشارہ کیا۔کیونکہ یہ حالت بھی اتنی خراب ہوتی ہے کہ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّکُوْنَ کُفْراً(الجامع الصغیر حرف الکاف)۔یعنی مال کی کمی بعض اوقات انسان کے ایمان کو ضائع کردیتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی کہ تم اللہ تعالیٰ سے التجا کرو کہ مال ملنے کے بعد پھر فقر کی نوبت نہ آئے۔کیونکہ جو شخص شروع سے غریب ہو اس کو غربت کا احساس زیادہ نہیں ہوتا۔لیکن جب کوئی شخص امارت کے بعد تنگی کے دن دیکھتا ہے تو اس کے دن گذرنے مشکل ہوجاتے ہیں۔پس ایسی حالت سے بچے رہنے کی دعا کے لئے وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ کے الفاظ سکھائے گئے ہیں۔(۳) غَاسِقٌ کے معنے سورج کے بھی ہیں اور چاند کے بھی۔اور وقوب کے معنے گرہن لگنے کے بھی ہیں۔پس وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کے معنے ہوں گے۔میں اس وقت کے شر سے پناہ چاہتاہوں جبکہ سورج اور چاند کو گرہن لگے۔سورج اور چاند کو گرہن لگنے کے دومعنے ہیں :۔الف۔یعنی وہ انوار جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ترقیات کے لئے ضروری ہیں، مٹ جائیں اور جو چیزیں اس نور کو مکتسب کرتی ہیں وہ بھی اس نور کو حاصل نہ کرسکیں جیسے سورج کی ذاتی روشنی ہے اور چاند اس سے روشنی حاصل کر