تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 369

سُوْرَۃُ الْاِخْلَاصِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الاخلاص۔یہ سورۃ مکّی ہے وَھِیَ خَمْسُ اٰیٰتٍ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ او راس کی بسم اللہ سمیت پانچ آیات ہیں سورۃ اخلاص مکی بھی ہے اور مدنی بھی ابن مسعودؓ کے نزدیک سورۃ الاخلاص مکی ہے اور حسن، عطاء، عکرمہ اور جابر بھی یہی کہتے ہیں۔ابن عباسؓ، قتادہ، ضحاک اور سدی کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔لیکن ابن عباسؓ کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ مکی ہے (فتح البیان تعارف سورۃ الاخلاص)۔اتقان میں ہے کہ بعض مفسرین نے ان ہردو قسم کی روایتوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ سورۃ الاخلاص کا نزول دو مرتبہ ہوا تھا۔ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں۔اتقان کے مصنف علامہ جلال الدین سیوطیؒ کا رجحان اسی طرف ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے ہمارے نزدیک صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سورۃ کا نزول دو مرتبہ ہوا۔ایک دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں۔حضرت ابن مسعودؓ بالکل ابتدائی صحابہ میں سے ہیںاور تفسیر میں ان کا پایہ بلندمانا جاتا ہے۔ان کی روایت کو بغیر کسی دلیل کے ردّ نہیں کیا جا سکتا۔دوسری طرف ابن عباسؓ ہیں گو انہوں نے مدینہ میں جا کر ہوش سنبھالی ہے اور ابتدائی سورتوں کے متعلق ان کا علم محض سماعی ہے لیکن ان کا مقام بھی بہت بلند سمجھا جاتا ہے ان کی بات بھی بلا وجہ رد نہیں ہو سکتی۔پس بجائے اس کے کہ ہم کسی ایک صحابی کی بات بغیر کسی مضبوط دلیل کے رد کریں۔ہم ان مفسرین کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں۔جن کی رائے یہ ہے کہ اس سورۃ کا نزول دو مرتبہ ہواہے۔سورۃ الاخلاص کا زمانہ نزول مستشرقین یورپ کے نزدیک وہیری اپنی کتاب کمنٹری اَون دی قرآن میں لکھتا ہے کہ میور کے نزدیک یہ سورۃ بالکل ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے۔اور نولڈ کے کے نزدیک یہ چوتھے سال کی نازل شدہ ہے۔وہیری کا خیال ہے کہ میور کی رائے درست ہے کیونکہ اس کا سٹائل اس قسم کا ہے جیسا کہ بالکل ابتدائی نازل ہونے والی سورتوں کا ہے۔ہمارے مفسرین اور مستشرقین یورپ میں یہ فرق ہے کہ مفسرین سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کی بنیاد تاریخ پر