تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 368
کے ماتحت ہوں اور قوت متاثرہ رکھتے ہوں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو فرماتا ہے اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ۔(البقرۃ:۳۶) کہ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو۔اس آیت میں زوج سے مراد صرف بیوی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی مراد ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام کے متبع تھے۔اور ان کی ہر بات کو تسلیم کرتے تھے۔وَّامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ سے مراد مغربی اقوام کے اندرونی مؤیّد پس وَّامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب کے نام کی مستحق اقوام کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اور لوگ بھی اپنے فائدے کے لئے شامل ہو جائیں گے جواُن کے لئے بطور ہاتھ کے ہوں گے۔بلکہ بعض ایسے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوں گے جو ان کے اپنے ملکوں میں ہوں گے۔اور اپنی حکومتوں کو شہ دلائیں گے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسے کام کریںجن سے اسلام ختم ہوجائے۔یعنی لٹریچر بھی لکھوائیں گے اوراُن کے خلاف جنگ کے لئے بھی اُکسائیں گے۔گویا ایندھن بھی مہیا کریں گے اور اسلام کے خلاف چغلخوری بھی کریں گے اور غلط باتیں پیش کر کے لوگوں کو اسلام کے خلاف بھڑکائیں گے۔فِيْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍؒ۰۰۶ اس کی (بیوی کی ) گردن میںایک کجھور کا سخت بٹا ہوا رسہ باندھا جائے گا ( جو کبھی نہ ٹوٹے گا)۔حلّ لُغات۔جِیْدٌ۔جِیْدٌ۔اَلْـجِیْدُ۔اَلْعُنُقُ۔جِیْدٌ کے معنے گردن کے ہیں۔(اقرب) مَسَد۔مَسَد: حَبْلٌ مِّنْ لِیْفٍ۔کجھور کے پتوں کا بٹا ہوارسہ۔وَقِیْلَ الْـحَبْلُ الْمَضْفُوْرُ الْمُحْکَمُ الْفَتْلِ۔اور بعض کہتے ہیں کہ مَسَد اس رسہ کو کہتے ہیں جو خوب مضبوط بٹا ہوا ہو۔اور ٹوٹ نہ سکے۔اَلْمِحْوَرُ مِنَ الْـحَدِیْدِ۔لوہے کی وہ سلاخ جس کے اردگرد چرخی گھومتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ سے مراد فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کے معنے ہیں کہ وہ لوگ جو ابولہبی اقوام کے لئے بمنزلہ عورت کے ہیں۔ان کے گلوں میں ایسی رسیاں ہیں جو ٹوٹ نہیں سکتیں۔یعنی ان کی مخالفت اسلام کے خلاف اتنی شدید ہوگی کہ اس کو دور کرنا مشکل ہوگا۔پھر اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ بظاہر ان حکومتوں کی قومیں آزاد کہلائیں گی لیکن درحقیقت اپنے زمانہ کے رسم ورواج کی غلام ہوں گی۔اور جب تک خدا تعالیٰ ان کو آزاد نہ کرائے وہ حقیقی آزادی حاصل نہیں کرسکیں گی۔