تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 370
رکھتے ہیں۔لیکن مستشرقین بجائے تاریخ پر بنیاد رکھنے کے مضمون سورۃ اس کی عبارت اور اس کے سٹائل سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ قرآن کریم کے مضمون کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں اور نہ اتنی عربی جانتے ہیں کہ اس کی عبارت سے صحیح نتائج اخذ کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔زبان عربی سے اُ ن کی واقفیت اتنی کم ہے کہ ان کا آیاتِ قرآنیہ کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اس کی مکہ والی زبان ہے اور اس کی مدینہ والی،محض ایک ڈھکونسلا ہوتاہے۔سورۃ الاخلاص کے متعدد نام اس سورۃ کے متعدد نام مختلف تفسایر میں مروی ہیں۔اور یہ ناموں کی کثرت اس کے کثرت مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔چنانچہ وہ نام یہ ہیں :۔۱۔سورۃ التفرید۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے اور فرد ہونے اور تثلیث وغیرہ کی تردید اس سورۃ میں کی گئی ہے۔۲۔سورۃ التجرید۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لاثانی ہونے کا اس میںبیان ہے۔۳۔سورۃ التوحید۔کیونکہ توحید کا ایسا واضح بیان کسی دوسری کتاب میں نہیں ہے۔۴۔سورۃ الاخلاص۔کیونکہ یہ انسان کے اندر اخلاص پیدا کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق جوڑتی ہے۔۵۔سورۃ النجاۃ۔کیونکہ اس بات پر پورا یقین رکھنے سے کہ خدا ایک ہے انسان نجات پاتاہے۔۶۔سورۃ الولایۃ۔کیونکہ یہ سورۃ پورے علم اور عمل اور معرفت کا ذریعہ ہو کر انسان کو درجہ ولایت تک پہنچادیتی ہے۔۷۔سورۃ المعرفۃ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اسی کلام کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نماز پڑھتے ہوئے سورۃ الاخلاص کی تلاوت کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو سن کر فرمایا کہ اس شخص نے اپنے رب کی معرفت حاصل کر لی۔۸۔سورۃ الجمال۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اِنَّ اللہَ جَـمِیْلٌ یُّـحِبُّ الْـجَمَالَ کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اللہ کا جمال کیا ہے۔آپ نے فرمایا اس کا اَحَد، صَمَد، لَمْ يَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْ ہونا۔۹۔سورۃ الْمُقَشْقِشَۃ۔مقشقشہ کے معنے ہیں بری کرنے والی۔جب کوئی بیمار شفا پاتاہے تو اہل عرب کہتے