تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 365

کَسَبَ۔کَسَبَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں جَـمَعَہٗ۔اس کو جمع کیا۔اور جب کَسَبَ مَالًا وَّ عِلْمًا کہیں تو معنے ہوتے ہیں طَلَبَہٗ وَرَبِـحَہٗ مال وعلم کو حاصل کیا اور ان سے فائدہ اٹھایااور کَسَبَ لِاَھْلِہٖ کے معنے ہوتے ہیں۔طَلَبَ الْمَعِیْشَۃَ۔اپنے اہل وعیال کے لئے معیشت یعنی زندگی بسر کرنے کے سامان حاصل کرنے کی کوشش کی۔(اقرب) اَلْکَسبُ۔مَا یَتَحَرَّاہُ الْاِنْسَانُ مِـمَّا فِیْہِ اجْتِلَابُ نَفْعٍ وَّ تَـحْصِیْلُ حَظٍّ کَکَسْبِ الْمَالِ یعنی اَلْکَسْبُ کے معنے ہیں اس چیز کی تلاش کرنا جس میں کسی نفع کی امید ہو۔جیسے مال وغیرہ کو تلاش کیا جاتا ہے۔(مفردات) تفسیر۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ میں مَا نافیہ بھی ہو سکتا ہے اور مَا استفہامیہ بھی۔مَا نافیہ ہونے کی صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ ابولہب کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا اور مَا استفہامیہ کی صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ ابولہب کا مال اس کے کس کام آئے گا یعنی وہ اس کو تباہی سے بچا نہ سکے گا۔مفسرین نے کہا ہے کہ مَاکَسَبَ میں مَا موصولہ بھی ہو سکتا ہے اور مَا مصدریہ بھی۔موصولہ ہونے کی صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ وہ چیزیں بھی اس کے کام نہ آئیں گی جو اس نے محنت کر کے حاصل کی تھیں۔اور مصدری معنے یہ بنیں گے کہ اس مال کا کمانا اس کے کام نہ آئے گا۔پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ اسلام پر حملہ کرنے والی اقوام تباہ ہو ں گی اور نہ صرف خودتباہ ہوں گی بلکہ وہ لوگ جو ان کے ساتھ اس لئے شامل ہوئے تھے کہ ان کو کچھ نفع ہو گا وہ بھی حسرت کے ساتھ تباہ ہوں گے اوراُن کو ان کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوام بڑی مالدار ہوں گی اور نہ صرف یہ کہ انہوں نے ایجادوں اور صنعتوں سے بہت مال پیدا کیا ہوگا بلکہ اپناراس المال دوسرے ملکوں میں لگا کر اور تجارت کے بہانے دوسرے ملکوں پر قبضہ کرکے ان ملکوں کا مال بھی اپنے قبضہ میں کر لیا ہوگا۔مَالُہٗ میںلفظ مال نکرہ رکھا اور نکرہ عظمت شان پر دلالت کرتا ہے(علم الـمعانی التنکیر)۔گویا اس سے یہ اشارہ کیا کہ اس کا عظیم الشان مال بھی اس کو تباہی سے بچا نہ سکے گا۔مَالُہٗ کے بعد مَا کَسَبَ کے الفاظ رکھے ہیں اور مَاکَسَبَ کے معنے ہیں۔مَکْسُوْبُہٗ اس کا کمایا ہوامال۔گویا ان اقوام کے مالوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے (۱) وہ مال جو اپنے ملکوں میں صنعتوں وغیرہ سے پیدا کریں گے۔(۲) وہ مال جو دوسرے ملکوں سے حاصل کریں گے۔یہ ظاہر ہے کہ یہ آیت مغربی اقوام پرپوری طرح صادق آتی ہے کیونکہ ایک طرف صنعتی ترقی سے وہ مالدار ہوگئی ہیں اور دوسرے طرف انہوں نے نہ صرف دوسرے ملکوں