تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 364

ایک لطیف بات جو اس جگہ قابل ذکرہے وہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں اسلام کے خلاف اٹھنے والی تحریکات کو بیان کیا گیا ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان فتنوں کے وقت اللہ تعالیٰ مسیح موعود کو نازل کرے گااور وہ ان فتنوں کا مقابلہ کریں گے۔لیکن دعائوں سے۔کیونکہ لَا یَدَانِ لِاَحَدٍ لِقِتَالِھِمْ۔(مشکوٰۃ کتاب الفتن باب العلامات) ان اسلام کے مخالف لوگوں کا مقابلہ مادی ہتھیاروں سے نہ ہو سکے گا۔اس لئے کہ مسلمانوں کی حالت ضعف و کمزوری کی ہوگی۔لیکن اللہ تعالیٰ مسیح موعودؑ کی دعائوں کو سنے گا اور ایسے سامان پیدا کردے گا کہ جس طرح نمک پانی میں گُھل جاتا ہے۔اسی طرح یہ اسلام کی مخالف اقوام آپس میں لڑکر تباہ ہو جائیں گی۔قرآن کریم نے ابولہب کا نام پانے والی اقوام کے مویّدین کو بھی ہاتھوں سے تعبیر کیا ہے۔اور فرمایا ہے تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ اور حدیث میں بھی جہاں آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے فتنوں کا ذکر ہے وہاں یَدَانِ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔یہ امر بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اُمت محمدیہ کے متعلق آخری زمانہ میں آنے والے ابتلائوں کا علم دے دیا تھا اور بتادیا تھا کہ سورۂ لہب میں جن اقوام کے خروج کی خبر دی گئی تھی ان کا مقابلہ ظاہری طاقت سے نہ ہو سکے گا۔تبھی تو آپ نے فرما دیا کہ لَا یَدَانِ لِاَحَدٍ لِقِتَالِھِمْ۔الغرض آیتتَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسلام پر حملہ کرنے والی اقوام اور اس کی تائید میں اٹھنے والے لوگ سب تباہی کا منہ دیکھیں گے اور اسلام کو مٹا نہ سکیں گے۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۰۰۳ اس کے مال نے اسے کوئی فائدہ نہیںدیا اور نہ اس کی کوششوں نے (کوئی فائدہ ) دیاہے۔حلّ لُغات۔مَا اَغْنٰی۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ۔اَغْنٰى عَنْهُ کے معنے ہوتے ہیں۔نَابَ عَنْہُ کوئی چیز اس کے قائم مقام ہوگئی۔اور جب مَایُغْنِیْ عَنْکَ ھٰذَا کا فقرہ بولیں تو معنے ہوں گے اَیْ مَا یُـجْدِیْ عَنْکَ یعنی یہ چیز تمہیں نقصان سے بچانے کے لئے کوئی فائدہ نہ دے گی۔نیز اَغْنیٰ عَنْہُ کَذَا کے معنے ہیں۔نَـحَّاہُ وَبَعَّدَہٗ۔اس نے اس کو کسی چیز سے دور کر دیا اور جب مَااَغْنٰی فُلَانٌ شَیْئًا کہیں تو معنے ہوں گے لَمْ یَنْفَعْ فِیْ مُھِمٍّ وَلَمْ یَکْفِ مَؤُوْنَۃً کہ ضرورت اور تکلیف کے وقت فلاں کچھ کام نہ آیا۔(اقرب)