تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 366
میں اپنا راس المال لگا کر ان کا مال چھین لیا۔بلکہ اس بہانے سے انہوں نے کئی ملکوں پر بھی قبضہ کر لیا۔مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ میں یہ دلیل کہ یہ سورۃ ایک شخص کے لئے نازل نہیں ہوئی مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ کے الفاظ بھی اس امر کی دلیل ہیں کہ سورۂ لہب کا نزول عبدالعزیٰ کے لئے قراردینا کسی طرح بھی درست نہیں۔کیونکہ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ کے الفاظ مال کثیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اور عبدالعزیٰ کے پاس تو کوئی ایسا مال نہ تھا جو قابل ذکر ہو اور نہ وہ اپنے زمانہ میں مالدار سمجھا جاتا تھا۔کسی کے پاس چند اونٹوں کا ہونا اس کو مالدار نہیں بنا سکتا۔پس مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ کے الفاظ اپنی پوری شان کے ساتھ مغربی اقوام پر ہی صادق آتے ہیں۔کیونکہ یہی وہ اقوام ہیں جو دنیا کی دولت مند اقوام سمجھی جاتی ہیں۔مفسرین کے نزدیک مَا كَسَبَ سے مراد اعمال، کوششیں اور اولاد بھی ہو سکتی ہے۔پس ان معنوں کے اعتبار سے یہ مفہوم ہوگا کہ ان قوموں کو اپنے جتھوں، اپنے اموال اور اپنی ایجادات پر بڑا ناز ہوگا۔لیکن تباہی کے وقت یہ چیزیں ان کے کام نہیں آئیں گی بلکہ یہی چیزیں ان کی تباہی کا موجب ہو جائیں گی۔سَيَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ۰۰۴ وہ ضرور آگ میں پڑے گا جو (اسی کی طرح ) شعلے مارنے والی ہوگی۔حلّ لُغات۔يَصْلٰى۔يَصْلٰى صَلٰی سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور صَلَی النَّارَ کے معنے ہوتے ہیں قَاسٰی حَرَّھَا وَاحْتَرَقَ بِـھَا وَدَخَلَ فِیْـھَا۔یعنی آگ کی گرمی کی تکلیف برداشت کی اور آگ میں داخل ہوااور اس میں جلا۔(اقرب) نَارٌ۔اَلنَّارُ تُقَالُ لِلَھِیْبٍ یعنی نار کا لفظ آگ کے شعلوں پر بھی اطلاق پاتا ہے۔وَ لِلْحَرَارَۃِ الْمُجَرَّدَۃِ وَلِنَارِ جَھَنَّمَ اور گرمی پر بھی اور جہنم کی آگ پر بھی۔وَلِنَارِ الْـحَرْبِ اور لڑائی کے لئے بھی نار کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔(مفردات) پس سَيَصْلٰى نَارًا کے معنے ہوں گے وہ ضرور آگ میں پڑے گا یا وہ ضرور جنگ میں پڑے گا۔تفسیر۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا گیا ہے نار کے معنے آگ کے ہیں اور نار سے مراد جنگ بھی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ۔(المآئدۃ:۶۵) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں نے جب بھی لڑائی کی آگ کو برانگیختہ کیا۔اللہ نے اسے بجھا دیا۔پس نَارٌ کا لفظ عربی