تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 363
ابولہب سے مراد مغربی اقوام ابولہب کے لفظی معنے ہیں شعلے کا باپ۔لیکن محاورے میں اس کے معنے ہوں گے وہ وجود جو ایسی چیزوں کا موجد ہو جن سے شعلے اور آگ پیدا ہو یا وہ وجود جس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا۔مفسرین کہتے ہیں کہ لفظ ابو لہب سے چہرے کا سرخ و سفید رنگ بھی مراد ہو سکتا ہے۔جیسا کہ ہم اوپر اشارۃً ذکر کر آئے ہیں کہ سورۃ تبت میں ابو لہب سے مراد کوئی ایک شخص نہیں بلکہ اس سے مراد وہ قوم ہے جو آخری زمانہ میں دنیا پر غلبہ حاصل کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یا اسلام کے خلاف آگ بھڑکائے گی۔یا وہ ایسی ایجادیں کرے گی جس سے شعلے اور آگ پیدا ہو اور پھر یہ قوم اپنی ہمسایہ قوموں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر اپنے جتھہ کو مضبوط کرے گی اور یہ قومیں اس کے ہاتھ کی مانند ہوں گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں دوہی جتھے ایسے ہیں جو کہ اسلام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف متحد ہیں۔ایک جتھہ بعض مغربی طاقتوں پر مشتمل ہے اور ایک جتھہ بعض مشرقی طاقتوں اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ابو لہب سے مراد یہ دونوںجتھے ہیں۔یہ ظاہر میں بھی ابولہب ہیں کہ ان کے رنگ سرخ و سفید ہیں اور باطن کے لحاظ سے بھی کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ایجاد کر رہے ہیں۔جن کا نتیجہ آگ اور شعلے ہیں۔اور اس لحاظ سے بھی ابو لہب ہیں کہ یہ انجام کار جنگ کی آگ کی لپیٹ میں آنے والے ہیں اور چونکہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خطرناک لٹریچر پیدا کر کے ایک آگ لگا دی ہے اس لئے بھی وہ ابو لہب کہلانے کے مستحق ہیں۔تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ میں تَبَّتْ ما ضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔لیکن عربی زبان میں جب کوئی امر یقینی اور قطعی طور پر ہونے والا ہو تو اس کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔گویا یہ بتایا جاتا ہے کہ تم یہ سمجھو کہ یہ کام ہو چکا۔پس تَبَّتْ کے معنے اس جگہ پر یہ ہوں گے کہ یہ یقینی بات ہے کہ یہ تباہ ہو جائیں گے اور ان کا یہ مقصد کہ اسلام کو مٹادیں حاصل نہ ہوگا۔پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آیت زیر تفسیر میں پہلے ابو لہب کے دونوں ہاتھوں کی تباہی کا ذکر ہے اور پھر اس کی اپنی تباہی کا۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابو لہب کا نام پانے والی اقوام یعنی مشرقی اور مغربی طاقتیں دونوں پوری کوشش کریں گی کہ مختلف ممالک کو اپنے ساتھ ملالیں اور وہ ممالک ان کے ساتھ مل بھی جائیں گے اور ان کے لئے بطور ہاتھوں کے ہوجائیں گے۔اور ابو لہب کہلانے والی اقوام ان جتھوں پر فخر کریں گی اور ان کو اپنی طاقت شمار کریں گی۔لیکن اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرے گا کہ پہلے تویہ مویّدین تباہ ہوں گے اور پھر وہ وجود جو ابو لہب کہلانے کا مستحق ہوگا اور ان قوموں کا نقطۂ مرکزی ہو گا وہ تباہ ہوگا۔