تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 32

کا پتہ لگایا جائے۔مثلاً اگر ایک شخص ہمارے پاس آکر کہتا ہے کہ میں سب سے بڑا استاد ہوں۔تو ہم دیکھیں گے کہ آیا استاد ہو نے کی سب شرائط اس میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔اگر وہ شرطیں دوسروں کی نسبت اس میں زیادہ پائی جاتی ہوں تو ہم مان لیں گے کہ وہ سب سے بڑا استاد ہے۔لیکن اگر کوئی کہے کہ میں سب سے بڑا استاد ہوں اور جب سوال کیا جائے کہ تم میں کون کون سے کمالات پائے جاتے ہیں اور وہ مثلاً کہے کہ میں انڈے زیادہ کھا جاتا ہوں تو ہر شخص اس کو بے وقوف سمجھے گا۔یا وہ کہے کہ میں ڈنٹر زیادہ پیلتا ہوں یا بیٹھکیں زیادہ نکالتا ہوں تو سب لوگ اس پر ہنسیں گے۔مگر جب وہ کہے کہ میں بڑا پہلوان ہوں اور پھر وہ کہے کہ میں خوراک زیادہ کھاتا ہوں، بوجھ زیادہ اٹھا سکتا ہوں، ڈنٹر زیادہ پیلتا ہوں اور کئی قسم کے جسمانی کرتب دکھا تا ہوں تو ہم کہیں گے ٹھیک کہتا ہے۔پھر ہم اس سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کیا تو کینٹ کا فلسفہ جانتا ہے۔اگر ہم اس سے پو چھیں گے کہ کیا تو کینٹ کا فلسفہ جانتا ہے؟ تو وہ فوراً کہہ دے گا کہ میرا فلسفہ سے کیا تعلق ہے میں نے تو پہلوانی کا دعویٰ کیا ہے فلسفہ دانی کا نہیں کیا۔آنحضرت کی حضرت موسیٰ سے مماثلت اور آپ کی حضرت موسیٰ پر فضیلت پس جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ میں سب سے بڑا ہوں۔تو ہم دیکھیں گے کہ آپ کا دعویٰ کیا ہے اور کون کون شخص آپ کے دعویٰ میں شریک ہے تاکہ ہم اس سے آپ کا مقابلہ کر کے دیکھیں اور معلوم کریں کہ آیا آپ واقعی سب سے بڑے ہیں یا نہیں۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ کیا تھا تو ہمیں قرآن کریم میں یہ آیت نظر آتی ہے کہ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزّمل:۱۶) یعنی اے لوگو ہم نے تمہاری طرف ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجاہے جو تمہارا نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف موسیٰ ( علیہ السلام )کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔دنیا میں جتنے نبی گذرے ہیں ان میں معروف نبی موسوی سلسلہ کے انبیاء ہی ہیں۔حضرت کرشن ؑ اور حضرت رام چندرؑ کی نبوت کو دوسرے مسلمان تو مانتے ہی نہیں ہم مانتے ہیں لیکن ہمارے پاس ان کی تاریخ محفوظ نہیں۔ان کی تعلیمیں کیا تھیں ہمیں ان کی تفصیلات کا کچھ علم نہیں۔صرف گیتا ایک ایسی کتاب ہے جو حضرت کرشن علیہ السلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے مگر اس میں بھی عام طور پر لڑائیوں اور تاریخی واقعات کا ہی ذکر ہے آپ کے دعویٰ کی تفصیلات اس سے نہیں ملتیں۔بہرحال اسرائیلی نبی جن کی تاریخ ایک حد تک محفوظ ہے۔ان کے سردار حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے اور اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو بھی موسیٰ جیسا نبی ہے۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام اس جنس میں شامل تھے جس جنس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے۔اب یہ ظاہر بات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام