تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 33

کو جو کمالات نبوت عطا کئے گئے تھے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات ان سے زیادہ ثابت ہوجائیں تو لازماً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر کا ملنا بھی ثابت ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے صرف یہی نہیں فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی قسم سے ہیں اور آپ کے کمالات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کمالات کے مشابہ ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ جوچیز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہے وہ دوسروں سے بڑھ کر ہے۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام والے کمالات بھی آپ کو ملے اور پھر ان سے بڑھ کر ملے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بڑے بڑے واقعات کیا گذرے تھے اور پھر ان کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے مقابلہ کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کس کس رنگ میں کو ثر عطا فرمایا ہے۔اس بارہ میں جب ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلعم کی حضرت موسیٰ پر پہلی فضیلت (۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام کلام الٰہی پھیلانے اور لوگوں کو روحانی علوم سکھانے کے لئے آئے تھے اور یہ سیدھی بات ہے کہ ظاہری علوم اس کام میں بہت ممد ہو تے ہیں۔علم سیکھانے کے کام میں پڑھے لکھے آدمی کے لئے بہت آسانی ہو تی ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب نبی بنایا گیا تو آپ پڑھے لکھے تھے۔قرآن کریم اور تورات دونوں سے اس کا پتہ چلتا ہے۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب نبیوں کا کام دیا گیاتودنیوی ہتھیار آپ کے پاس موجود تھایعنی آپ پڑھے لکھے تھے اور اپنے کام کو احسن طریق پر سرانجام دے سکتے تھے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وہی کام سپرد ہوا تو آپ پڑھے لکھے نہیں تھے۔مگر اَن پڑھ ہو نے کے باوجود آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ کامیابی حاصل کی۔یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حاصل ہے۔دوسری بڑی فضیلت (۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو متمدن تھی۔آپ جب مصر میں تشریف لائے اس وقت مصری قوم چوٹی کی قوم سمجھی جاتی تھی اور چونکہ بنی اسرائیل بھی اس کے ساتھ رہتے تھے اس لئے اسرائیلی قوم بھی پڑھی لکھی اور متمدن تھی اور پڑھے لکھے اور متمدن لوگوں کو دینی علوم سکھانا زیادہ آسان ہو تا ہے۔ان میں نظام کو قائم کرنا اور ان کے اندر جماعتی روح پیدا کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم کی طرف آئے تھے جو غیر متمدن تھی اور ظاہری علوم سے بالکل ناآشنا تھی۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ کا یہ واقعہ ہے کہ جب مسلمانوں کی کسریٰ سے لڑائی ہو رہی تھی تو ایک دفعہ کسریٰ