تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 31
نبوت اپنے تمام کمالات کے ساتھ ملی اور ہر ہر کمال بہت بہت ملا۔دوسرے لفظو ں میں ہم یوں کہیں گے کہ جونبوت آپ کوملی وہ کیفیت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ تھی اور کمّیت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ تھی۔گویا جو جو کمالات نبوت آپ کو عطا ہوئے وہ دوسرے نبیوں کے کمالات سے اعلیٰ تھے اور پھر وہ تعداد میں بھی دوسرے نبیوں سے زیادہ تھے۔اگر غور کیا جائے تو یہ لفظ ختم نبوت پر دلالت کرتا ہے اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع ہی سے صحابہؓ ایک کامل اور آخری نبی موعود سمجھتے تھے اور پھر یہ دیکھتے ہیں کہ خاتم النبیین کا لفظ سورۂ احزاب میں استعمال ہوا ہے جو ہجرت کے چھٹے سال میں نازل ہوئی توتعجب ہو تا ہے کہ اس قدر آخری زمانہ میں جو اظہار ہوا تھا اس کا علم صحابہؓ کو پہلے سےکیوں کر ہو گیا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے کیونکر ہو گیا۔اس کا جواب اس سورۃ سے مل جاتا ہے کیونکہ یہ سورۃ دعویٰ کے چوتھے پانچویں سال ہی نازل ہو گئی تھی اور اس میں در حقیقت ختم نبوت کا دعویٰ تھا۔یعنی یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے کمالات اعلیٰ شکل میں ملے اور بہت ملے اور جس کو یہ چیز ملی وہ یقیناً سب نبیوں سے افضل تھا اور خاتم النبیین تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب سورۂ احزاب نازل ہوئی اور آپ کو خاتم النبیین کا لقب دیا گیا تو صحابہ میں اس پر کسی قسم کا کوئی شور نہیں پڑا۔ان کے نزدیک یہ کوئی نیالقب نہیں تھا جو آپ کو دیا گیا۔اگر یہ نئی بات ہو تی تو اس پر شور پڑ جاتا۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کوئی شور نہیں پڑا کیونکہ صحابہؓ آپ کو پہلے ہی خاتم النبیین سمجھتے تھے اور آپ کا بھی یہی خیال تھا۔اس لئے سورۂ احزاب کے اترنے پر استعجاب کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ جب سورۃ کوثر نازل ہوئی تو ا سی وقت سے آپؐاور صحابہؓ سمجھ گئے تھے کہ آپؐخاتم النبیین ہیں اور تمام نبیوں سے افضل ہیں۔ان معنوں کے علاوہ لغت میں کوثر کے معنے ایک ایسے سخی وجود کے بھی ہیں جس میں بڑی خیر پائی جائے۔ان معنوں کے لحاظ سے اس سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ ہم تجھے ایک خیر کثیر والا سخی وجود دیں گے۔دینے سے مراد یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کے اتباع میں سے ایک بہت بڑا سخی وجود پیدا ہوگا۔ورنہ اِنَّا اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ کہنےکا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا۔اب ہم باری باری دونوں معنوں کو لیتے ہیں۔آنحضرت صلعم کو نبوت کے کمالات کا اعلیٰ صورت میں ملنا (۱)پہلے معنے یہ تھے کہ نبوت کے کلمات کا اعلیٰ صورت میں ملنا اور بہت ملنا۔اس مضمون کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں اور خدا تعالیٰ کے سوا اورکوئی اسے مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا۔لیکن مثال کے طور پر کچھ باتیں بیان کی جاسکتی ہیں۔اس بارہ میں ہمیں سب سے پہلےیہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کا دعویٰ کیا تھا کیونکہ کسی کی خوبیوں کا پتہ لگانے کے لئے یہ ضروری ہو تا ہے کہ اس کے دعویٰ