تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 352

اوراُن کے ساتھیوںکو نا کام کردے گا۔یہ ایک سیاسی سوال ہے جس میںہم پڑنا نہیں چاہتے کہ اس وقت مشرقی طاقت کے کون سے دو مویّد ہیں۔جو اس کی جنگی کارروائیوں میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں اور مغربی جمہوریت کے کون سے دو مویّد ہیں جو اس کی جنگی طاقتوں میں اس کی مدد کررہے ہیں۔بہر حال یہ ظاہر ہے کہ ایک طرف مغربی جمہوریت اپنے ساتھی بڑھا رہی ہے اور ایک طرف اس کے مقابل کی مشرقی طاقت اپنے ساتھی بڑھا رہی ہے اور دونوں جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔یہ سورۃ بتاتی ہے کہ یہ اتحاد کام نہ دیں گے اور جن ہاتھوں پر امیدیں کی جارہی ہیں۔انہی ہاتھوں کو خدا شل کردے گا۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ علاوہ غیرقوموں کے جو کہ بطور ہاتھ کے ہیں۔خود ان ملکوں میں بھی ایسے گروہ پائے جائیں گے جو کہ خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اپنی حکومتوں کو بھڑکائیں گے۔صاف ظاہر ہے کہ ایسے گروہ مغربی ممالک میں بھی موجود ہیں اور مشرقی ممالک میں بھی موجود ہیں۔ان گروہوں کانام اس مناسبت سے کہ وہ اندرونی ہیں۔اِمْرَاَۃٌ رکھا گیا ہے یعنی بیوی۔اور فرماتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی بھی تباہ ہو جائے گی یعنی ان قوموں کے وہ گروہ بھی کمزور ہو جائیں گے اور نقصان اٹھائیں گے جو لکڑیاں ڈال ڈال کر حکومت کی آگ کی طاقت کو بڑھا رہے ہیں۔لکڑیاں ڈالنے سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ وہ حکومت کو شہ دلاتے ہیں کہ تم ایسے کام کرو۔جیسا کہ مغربی ممالک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ اسلام کے خلاف لٹریچر لکھواتے ہیں اور اسرائیل کی تائید کے لئے ان ممالک کو اکساتے رہتے ہیں۔اسی طرح مشرق میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی قوم کو اور اپنی حکومت کو دہریت کی تائید میں اکساتے رہتے ہیں اور توحید کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔اس سورۃ سے پتہ لگتا ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ ان دونوں فتنوں کو دور کردے گا۔نہ مغربی جمہوریت کے اشتعال پسند لوگ محفوظ رہیں گے نہ اس کے مقابل کی مشرقی طاقت کے اشتعال پسند لوگ محفوظ رہیں گے۔پھر فرماتا ہے کہ باوجود بچنے کی ساری تدبیروں کے ان کو کسی جنگ میں مبتلا ہونا پڑے گا جو بڑی شعلوں والی ہوگی۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شائد کسی وقت ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کی جنگ ہو جائے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہے تو جیسا کہ قرآن شریف کی آیات سے پتہ لگتاہے، عذاب ٹل بھی جایا کرتے ہیں۔اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور سچی توبہ اور استغفار سے کام لیں تو یہ عذاب ٹل بھی سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ اسی شکل میں آئے۔ممکن ہے کہ ایٹم بم کی جگہ اصولوں کی مخالفت اور مقابلہ کی صورت میں ہی یہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔