تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 353

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ ( میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا ( اور ) بار بار حم کرنے والا ہے( شروع کرتاہوں) تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۲ شعلہ کے باپ کے دونوں ہاتھ ہی شل ہو گئے ہیں اور وہ (خود ) بھی شل ہو کر رہ گیا ہے۔حلّ لُغات۔تَبَّتْ۔تَبَّتْ تَبَّ سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور تَبَّ یَتُبُّ تَبًّا کے معنے ہیں ھَلَکَ وَخَسِـرَ۔تباہ و برباد ہو گیا اور اس نے نقصان اٹھایا۔اور جب تَبَّتْ یَدَاہُ کا فقرہ بولیں تو اس کے معنی ہوں گے ضَلَّتَا وَخَسِـرَتَا۔اس کے دونوں ہاتھوں نے نقصان اٹھایا اور تباہ ہوئے۔(اقرب) مفردات امام راغب میں لکھا ہے اَلتَّبُّ وَالتَّبَابُ اَلْاِسْتِمرَارُ فِی الْـخُسْـرَانِ۔یعنی اَلتَّبُّ وَالتَّبَّابُ (جو تَبَّ فعل کے مصدر ہیں ) کے معنے ہیں ہمیشہ گھاٹا اٹھانا۔اور تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ کے معنے ہیں اِسْتَمَرَّتْ فِیْ خُسْـرَانِہٖ ابو لہب کے دونوں ہاتھ ضرور نقصان اٹھائیں گے۔اَلْیَدُ۔اَلْیَدُ کے معنے ہیں اَلْکَفُّ ہاتھ۔نیز اس کے معنے ہیں اَلْـجَاہُ وَالْوَقَارُ۔عزت و رتبہ۔اَلْقُوَّۃُ وَالقُدْرَۃُ وَالسُّلْطٰنُ وَالْوِلَایَۃُ۔قوت و طاقت۔بادشاہت اور غلبہ۔اَلْـجَمَاعَۃُ۔جماعت۔اَلنِّعْمَۃُ وَالْاِحْسَانُ احسان اورنعمت۔(اقرب) اَلْاَبُ۔اَلْاَبُ: اَلَّذِیْ یَتَوَلَّدُ مِنْہُ اٰخَرُ مِنْ نَوْعِہٖ۔یعنی اس وجود کو جس سے اسی نوع کی چیز پیدا ہو جس نوع کا وہ خود ہے۔اَبٌ کہتے ہیں یعنی والد۔نیز اَبٌ کے معنے ہیں مَنْ کَانَ سَبَبًا فِیْ اِیْـجَادِ شَيْءٍ اَوْاِصْلَاحِہٖ اَوْ ظُھُوْرِہٖ جو کوئی کسی چیز کے ایجاد کرنے یا ظاہر کرنے اور وجود میں لانے کا سبب ہو اس کو بھی اَبٌ کہتے ہیں۔(اقرب) لَھَبٌ۔لَھَبٌ لَھِبَ کا مصدر بھی ہے اور اسم بھی ہے۔لَھِبَتِ النَّارُ کے معنے ہوتے ہیں اِشْتَعَلَتْ خَالِصَۃً مِّنَ الدُّخَانِ۔آگ ایسی تیزی سے بھڑک اٹھی کہ اس میںدھواں باقی نہ رہا۔اور اَللَّھَبُ کے معنے ہوتے ہیں۔لِسَانُ النَّارِ یعنی آگ کا شعلہ۔(اقرب) پس ابو لہب کے معنے ہوں گے شعلوں کا باپ۔یعنی ایسی چیزوں کاموجد جو آگ کو بھڑکائیں۔تفسیر۔آنحضرت صلعم کی صداقت کی ایک عظیم الشان دلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی