تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 351

اس طریق کلام کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اور اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ عبدالعزیٰ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا وہ مخالفت میں کئی اور دشمنوں سے ادنیٰ تھا۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سورۃ میں جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے بعض ایسے دشمنوں کا ذکر کیا گیا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر لوگوں کو اکساتے تھے۔اور مفسروں کا یہ کہنا کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے چچا کا ذکر ہے جس کا چہرہ سرخ و سفید تھا درست معلو م نہیں ہوتا۔ابولہب کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ شخص آگ بھڑکاتا تھا۔اور آیت وَّ امْرَاَتُهٗ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ بھی بتاتی ہے کہ یہاں آگ بھڑکانے کا ذکر ہے، چہرہ کی سفیدی کا ذکر نہیں۔اگر چہرہ کی سفیدی کی وجہ سے کسی کو ابو لہب کہا گیا ہے۔تو اس کی بیوی کے لکڑیا ں اٹھا کر لانے اور آگ میں جھونکنے کا کیا مطلب ہے۔کیا اس کی لکڑیوں سے ابو لہب کے چہرہ کی سفیدی بڑھا کرتی تھی؟ پس حقیقت یہ ہے کہ اس سورۃ میں ان شدید دشمنوں کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فتنہ کی آگ بھڑکاتے رہتے تھے۔اور بتایا ہے کہ وہ ناکام رہیں گے۔لیکن سورتوں کی ترتیب کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ( جو تفسیر میں سب سے اہم مقام رکھتی ہے ) اس سورۃ میں آخری زمانہ کا ذکرہے۔اورایک ایسی قوم کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یا اسلام کے خلاف سخت آگ بھڑکائے گی۔اور بتایا گیا ہے کہ وہ جماعت کوشش کرکے اپنی ہمسایہ قوموں کواپنے ساتھ ملائے گی اور وہ اس کے ہاتھ کی مانند ہوںگے یعنی اس کے مددگار ہوں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں دوہی جتھے ایسے ہیں جو کہ اسلام یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف متحد ہیں۔ایک جتھہ بعض مغربی طاقتوں پر مشتمل ہے اورایک جتھہ مشرقی طاقتوں اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ابو لہب سے مراد یہ دونوں جتھے ہیں۔جو ظاہر میں بھی ابو لہب ہیں کیونکہ ان کے رنگ سرخ و سفید ہیں اور باطنی لحاظ سے بھی ابو لہب ہیں کیونکہ آگ کی جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تیار کر رہے ہیں اور اس لحاظ سے بھی وہ ابو لہب ہیں کہ ان میں سے بعض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لٹریچر پیدا کرتے رہتے ہیں اور اسلامی حکومتوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔اور ایک جتھہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے خلاف کوشش کر رہا ہے اور دہریت پھیلا رہا ہے۔یعنی مشرقی جتھہ جس نے بہت بڑی اسلامی حکومتوں کو تہ و بالا کر دیا ہے مثلاً سمر قند، بخارا اور سنکیانگ کے علاقے اس نے اپنے قبضہ میں کر لئے ہیں۔اور ٹرکی اور عراق اور ایران کے خلاف وہ منصوبے کرتا رہتا ہے۔پس یہ دونوں طاقتیں اس وقت اپنی ظاہری تدبیروں اور مذہبی مخالفتوں کی وجہ سے ابو لہب کہلانے کی مستحق ہیں۔اس سورۃ میںیہ بتایا گیا ہے کہ ابولہب کے نام کی مستحق اقوام جو آخری زمانہ میں پیدا ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ان کو