تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 350

کہ آیات کے سبب نزول کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کچھ بھی مروی نہیں۔صرف صحابہ کرام کی بیان کردہ روایات ہوتی ہیں تبھی بعض اوقات ان میں اختلاف بھی ہو جاتا ہے۔اور ایک آیت کے متعلق کئی کئی سبب نزول بیان ہو جاتے ہیں۔اس سورۃ کے متعلق بھی جو سبب نزول بیان کیا گیا ہے وہ حضرت ابن عباسؓ کی طرف منسوب ہے اور تفاسیر میں اس سورۃ کے متعلق ان کے سوا کسی اور کی طرف سے بیان کردہ روایت نہیں پائی جاتی۔حالانکہ یہ سورۃ ابتدائی زمانہ کی ہے اور اس زمانہ کے صحابہ میں سے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت علیؓ بڑے پایہ کے ہیں۔لیکن انہوں نے کوئی روایت نہیں کی۔حضرت ابن عباسؓ تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب کہ یہ سورۃ نازل ہوئی۔انہوں نے مدینہ میں جا کر ہوش سنبھالی ہے۔اور ان کا علم مکی سورتوں کے متعلق صرف سماعی ہے۔پس ان حالات میں ہم یہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس سورۃ کے متعلق بیان کردہ شان نزول قطعی اور یقینی ہے۔بےشک قرآن کریم کی ہر سورۃ کے پہلے مصداق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے لوگ ہی ہیں لیکن جیساکہ پہلی سورتوں میں بتایا جا چکا ہے آخری چند سورتوں کی ترتیب یہ ہے کہ ایک سورۃ زیادہ تر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی طرف توجہ دلاتی ہے اور ایک زیادہ تر آخری زمانہ کی طرف۔ہماری ترتیب کے مطابق سورۃ لہب اس مقام پر ہے جو زیادہ تر آخری زمانہ کی طرف توجہ دلاتی ہے کیونکہ سورۃ لہب سے پہلی سورۃ یعنی سورۂ نصر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چچا کا نام عبدالعزیٰ تھا جس کی کنیت ابولہب پڑ گئی تھی۔کیونکہ اس کا رنگ بہت سرخ و سفید تھا (البحر المحیط سورۃ اللہب)۔قرآن شریف نے سورۃ لہب میں اس کی مخالفتوں کا ذکر کیا ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ مخالفت کے لحاظ سے ابو جہل جس کا نام ابوالحکم تھا عبدالعزیٰ سے بہت بڑھا ہواتھا۔اور سارے قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مخصوص دشمن یا منافق کا نام قرآن کریم میں نہیں آیا۔بلکہ اگر کسی دشمن کا ذکر آیا ہے تو اشارہ کے ساتھ آیا ہے جو عام الفاظ میں ہے اور مختلف انسانوں پر چسپاں ہوسکتا ہے۔مثلاً آدمؑ کے دشمن کو دو صفاتی ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ایک شیطان اور ایک ابلیس (دیکھو سورۂ بقر ہ ع ۴ و اعراف ع۲ و طٰہٰ ع۷) یعنی وہ حق سے دور تھا اورخدا کی رحمت سے مایوس تھا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شدید مخالف کوجو آپ کے خلاف لوگوں کو لڑائی کے لیے اکساتاتھا شیطان کے لفظ سے یاد کیا ہے۔لیکن اس کا اصل نام نہیں لیا۔( سورۃ الانفال ع ۶ آیت ۴۸) اس سورۃ میں بھی ایسے الفاظ نہیں ہیں جن سے کسی خاص شخص کی طرف اشارہ ہو۔بلکہ کئی لوگوں پر یہ مضمون چسپاں ہو سکتا ہے۔