تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 310

ہے درحقیقت یہ صرف عربی زبان کی ہی خوبی ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے ایک لفظ کے ساتھ اتنے بڑے مضمون کو بیان کر جاتی ہے جو دوسری زبانوں میں پوری کتاب لکھنے سے بھی مکمل نہیں ہوتا۔اور یہ بات عربی کے اُمّ الالسنہ ہونے کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ کافرون میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ سبق سکھا یا ہے کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی شریعت ہر طرح سے اکمل اور اعلیٰ ہے۔ان کے عبادت کے طریق دوسرے مذاہب کی عبادت کے طریقوں سے افضل ہیں۔ان کا معاشرہ اعلیٰ درجہ کا ہے۔ان کے حکومت کے اصول بہترین ہیں۔ان کا نظام جماعت نہایت عمدہ ہے اور ان کا مقصد حیات نہایت ہی مبارک ہے۔پس ان باتوں کے حامل شخص کا فرض ہے کہ وہ ہر موقعہ پر کفر کے سامنے ڈٹ جائے اور اسلام کی فضیلت کو ثابت کرے اور کبھی کسی رنگ میں بھی کفر سے مرعوب اور متاثر نہ ہو۔کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو دنیا تباہ ہو جائے گی اور اسے کبھی بھی کامل نظام حاصل نہیں ہو گا پس مسلمان کا اس معاملے میں دوسروں سے علیحدہ ہونا ضد کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی اور ترقی کے لئے ہو گا۔اس کے مقابلے میں دشمنوں کا ایسے پاکیزہ نظام سے الگ ہونا یا تو ضد کی وجہ سے ہو گا یا بنی نوع انسان کی ترقی سے آنکھیں بند کرنے کی وجہ سے ہو گا۔