تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 311

سُوْرَۃُ النَّصْـرِ مَدَنِیَّۃٌ سورۃ نصر۔یہ سورۃ مدنی ہے وَھِیَ اَرْبَعُ اٰیَاتٍ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ اور بسم اللہ کو شامل کر کے اس کی چار آیات ہیں سورۃ نصر مدنی ہے سورۃ نصر مدنی سورۃ ہے اور اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔سب مفسرین کا اس کے مدنی ہونے پر اتفاق ہے۔( فتح البیان سورۃ النصر ) ہاں وقتِ نزول کے متعلق تین روایات تفاسیر میں بیان ہوئی ہیں۔سورۃ نصر کے وقت نزول کے متعلق مختلف روایات پہلی روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ اِنَّ نُزُوْلَھَا عِنْدَ مُنْصَـرَفِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ خَیْبَرَ۔( روح المعانی سورۃ النصر) کہ سورۃ نصر اس وقت نازل ہوئی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر سے واپس تشریف لارہے تھے۔اور غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوئی ہے۔گویا اس روایت کے لحاظ سے سورۃ نصر کانزول ۷ ھ میں ہوا ہے۔دوسری روایت سورۃ نصر کے نزول کے متعلق یہ آتی ہے کہ ابن عباسؓ کہتے ہیں لَمَّا اَقْبَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ اَنْزَلَ اللہُ عَلَیہِ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔( در منثور سورۃ النصر) یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے اس وقت سورۃ نصر نازل ہوئی۔فتح مکہ رمضان ۸ ھ میں ہوئی ہے اور اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ حنین میں شامل ہوئے۔کیونکہ فتح مکہ کے بعد ابھی آپؐمکہ میں ہی قیام فرما تھے کہ آپؐکو معلوم ہواثقیف اور ہوازن کے قبیلے فساد پر تُلے ہوئے ہیں۔چنانچہ خبر ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان قبائل کی طرف روانہ ہوئے اور حنین کے مقام پر ان سے مقابلہ ہوا۔پہلے تو مسلمانوں کے پائوں اُکھڑ گئے۔لیکن بعد ازاں اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مد دسے مسلمانوں کو فتح ہو گئی۔اور مسلمان فاتحانہ شان سے واپس ہوئے۔حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سورۃ نصر کے نزول کا وقت جنگِ حنین سے واپسی کا ہے گویا اس لحاظ سے اس سورۃ کا نزول ۸ ھـ میں ماننا پڑے گا۔