تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 309

حامل ہو جاتا ہے۔گویا اس کا مذہب اس کے باپ دادا کا مذہب ہوتا ہے وہ اپنے ماحول کا اثر لے لیتا ہے مشرک کے گھر پیدا ہونے والا بچہ اپنے مشرک والدین کے اثر کے ماتحت بتوں کو پوجنے لگتا ہے اور رسم و رواج کی تقلید کرنے لگتا ہے۔پس تمہاری عادات اور ہیں اور میری عادات اور۔عادات کا اتفاق بھی فریقین کے لئے ملنے کا ایک سبب اور وجہ بن جا یا کرتا ہے لیکن یہاں یہ وجہ بھی نہیں پائی جاتی۔پس تمہارا راستہ اور ہے اور میرا راستہ اور۔اس لئے ہم کسی طرح متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتے۔اور ہماری طرف سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا اعلان ایک کھلی حقیقت ہے۔اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو محض عناد اور بُغض کی بنا پر کی گئی ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ کافرون میں جو مسلمانوں کو کفار سے عبادت میں انقطاع کلّی کا حکم دیا گیا ہے تو اس کی مکمل وجوہات لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے فقرہ میں بتائی گئی ہیں۔ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام کی رو سے محض نماز کا نام عبادت نہیں۔بلکہ تمام اخلاقی اور روحانی کا م خواہ تمدن سے تعلق رکھتے ہوں یا سیاست سے یا معیشت سے۔جب وہ خدا تعالیٰ کی خاطر کئے جائیں اور روحانی ترقی کے لئے کئے جائیں تو وہ بھی عبادت ہی ہوتے ہیں۔پس یہ جو اس سورۃ میں فرمایا گیا ہے کہ میں تمہارے ساتھ مل کر عبادت نہیں کر سکتا۔اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو معیشت، سیاست یا تمدن سے تعلق رکھتے ہیں۔ان سب امور میں اسلام نے محبت، پیار، انصاف، نظم اور خدا تعالیٰ کی رضا مندی کو مدّ ِنظر رکھ کر احکام دیئے ہیں۔لیکن دوسرے مذاہب نے یا تو صرف جبری احکام دیئے ہیں یا باپ دادا کی رسم و رواج کی تقلید کی ہے اور کروانی چاہی ہے۔اس لئے عبادت یعنی خواہ وہ ایسی عبادت ہو جو نماز کا رنگ رکھتی ہے۔یا ایسی عبادت ہو جو معیشت یا تمدن یا سیاست پر مشتمل ہو لیکن ہو خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے۔اس میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کا اتحاد نا ممکن ہے۔کیونکہ دونوں کے اصول احکام ایک دوسرے سے بالکل متبائن ہیں۔الغرض قرآن کریم نے سب سے پہلے ایک حکم دیا کہ ہر مسلمان کو یہ کھلم کھلا اعلان کرنا چاہیے کہ وہ کافروں کے ساتھ کسی طرح متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتا پھر اس اعلان کی وجوہات لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے الفاظ میں بیان کردیں۔لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے الفاظ کتنے مختصر ہیں لیکن اس کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔اگر اس مفہوم کو پوری تفصیلات کے ساتھ قلم بند کیا جائے تو اس سے ایک خاصے حجم کی کتاب تالیف ہو سکتی