تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 233

عین مطابق فوراً جواب دیا کہ خدا کی پناہ۔میں ایسا گناہ کس طرح کر سکتا ہوں۔یہ حدیث کشاف ہی کے مطابق علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں اور مولانا شیخ اسمٰعیل بروسوی نے اپنی تفسیر روح البیان میں لکھی ہے۔علامہ ابن حیان نے اپنی تفسیر بحرِ محیط میں گو حدیث کے الفاظ میں معاذ اللہ کے الفاظ تو نہیں لکھے مگر یہ حصہ کہ ٹھہرو خدا کا حکم آجائے جو اصل میں قابل اعتراض الفاظ ہیں درج نہیں کئے۔گویا ان الفاظ کو حذف کر کے ان کے غلط ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔امام ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں اس ٹکڑے کا کہیں ذکر نہیں کیا۔جہاں تک احادیث کا تعلق ہے امام مذکور سب ان محدثین پر فوقیت رکھتے ہیں کہ جو تفسیر کے متعلق احادیث جمع کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیشہ ثقہ روایات لانے کی کوشش کرتے ہیں۔علامہ قرطبی نے بھی جو بڑ ے فقیہ ہیں اس ٹکڑے کا ذکر نہیں کیا۔بڑے مفسرین میں سے (جو درایت سے بھی کام لیتے ہیں اور صرف احادیث خواہ وہ کسی طبقہ کی ہوں جمع کرنے کی کوشش نہیںکرتے)صاحب تفسیر رازی ایسے ہیں جنہوں نے اس مضمون کو نقل ہی نہیں کیا بلکہ اس پر نمک مرچ بھی لگایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قوم تیرے پاس آئی اور تجھے لالچ دی کہ وہ تیری اتباع کریں گے اور تُو ان کے دین میں ان کی اتباع کر اس پر تو نے انکار نہ کیا اور ان کی بات کو ردّ نہ کیا حالانکہ میں نے تجھ سے اس اس طرح نیک سلوک کیا تھا۔نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ھٰذِہِ الْـخُرَافَاتِ۔بہرحال رازی کے سواباقی جید مفسرین نے جو نقل کے ساتھ عقل سے بھی کام لینا جائز سمجھتے ہیں یا تو ان روایات کے خلاف روایات نقل کی ہیں (گو افسوس انہوں نے رواۃ حدیث درج نہیں کئے )یا روایت کے قابل اعتراض حصہ کو ترک کر کے اپنی رائے ظاہر کر دی ہے کہ وہ اسے معیوب اور غلط سمجھتے ہیں پس ان سب امور پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان احادیث کے قابل اعتراض حصہ کے خلاف دوسری روایات بھی موجود ہیں اور تاریخ بھی تواتر سے ان کے قابلِ اعتراض حصہ کو ردّ کرتی ہے۔گو اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ کفار نے اپنی حماقت سے یہ پیشکش تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی کہ آپ ان کے معبودوں کے معاملہ میں نرمی سے کام لیں تو وہ آپ کو اپنا سردار بنانے کو تیار ہیں مگر آپ نے اسی وقت اس امر کو سختی سے ردّ کر دیا تھا اور جب بات یوں ہے تو ظاہر ہے کہ یہ سورۃ اس سوال کے جواب میں نہیں اتری بلکہ اس کا مضمون اس سوال سے الگ اور بالا ہے گو الفاظ ایسے ہیں کہ ایک ناواقف آدمی دھوکہ کھا سکتا ہے کہ شاید اس سوال کے ساتھ اس مضمون کا تعلق ہو۔(باء)بعض لوگوں نے یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ اس سورۃ سے پہلے قُلْ آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ