تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 234
کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے لیکن اگر یہ درست ہے تو سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کس سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہیں۔یہی مفسر ان سورتوں کے بارہ میں خاموش ہیں اور کسی انسان کے سوال کے جواب کی وہاں ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اصل بات یہ ہے کہ قُلْ کا لفظ اعلان کے لئے آیا ہے یعنی اس سورۃ کے مضمون کا خوب اعلان کر۔یوں تو سب سورتوں کا مضمون اعلان کے قابل ہے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ (المآئدۃ:۶۷) اے رسول جو کلام قرآنی تجھ پر نازل ہوتا ہے وہ سب کا سب لوگوں تک پہنچا دے۔پس قرآن کا کوئی حصہ چھپانے والا نہیں لیکن بعض مضمون وقت کے لحاظ سے خوب پھیلانے والا ہوتا ہے اس لئے اس کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جاتی ہے۔چنانچہ پانچ سورتیں قرآن کریم کی ایسی ہیں جن کے شروع میں قُلْ کے لفظ آتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ ان کے مضمون کا خوب اچھی طرح اعلان کر دو۔یہ سورتیں سورۂ جن، سورۂ کافرون، سور ۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورہ ٔ الناس ہیں۔ان سورتوں کے علاوہ کم و بیش تین سو چھ آیتوں سے پہلے بھی یہ لفظ آتا ہے اورجہاں بھی آتا ہے ما بعد کے مضمون کی اہمیت بتانے کے لئے آتا ہے۔مجموعی نظر ان آیات اور سورتوں پر ڈالی جائے تو ایک لطیف مضمون نکل آئے مگر تفسیر ایسے مضامین بیان کرنے کا مقام نہیں۔یہاں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ قُلْ کا لفظ بعد کے مضمون کی اہمیت بتانے اور اس کے اعلان کرنے کا حکم دینے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کسی سوال کے جواب پر اشارہ کرنے کے لئے نہیں۔قرآن کریم کی آخری تین سورتوں سے پہلے اس لفظ کا استعمال بھی یہی بتاتا ہے کہ چونکہ قرآن کریم ختم ہو رہا تھا اس کا خلاصہ آخر میں پیش کر دیا گیا اور ان سورتوں کے مضمون کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دلا دی تاکہ خلاصہ کے ذریعہ سے سارےمضمون سے اجمالاً لوگ واقف ہو جائیں۔ایک سوال اس جگہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کیا تو اس وقت تو قُلْ کا لفظ اچھا لگتا تھا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ وحی تلاوت کی یا دوسروں کو سنائی تو پھر قُلْ پڑھنے کا کیا فائدہ؟ چاہیے تو یہ تھا کہ وحی کے وقت قُلْ کہہ کے وحی شروع کی جاتی۔مگر قُلْ کے لفظوں کو قرآنی وحی میں شامل نہ کیا جاتا۔اب تو یہ لطیفہ بن گیا ہے کہ مثلاً سورۂ کافرون کوئی شخص پڑھتا ہے تو وہ پہلے کہتا ہے ’’کہہ‘‘۔یہ ’’کہہ‘‘ کا لفظ کہنے والا کون ہوتا ہے اور کسے کہتا ہے۔اگر تلاوت کے وقت اس لفظ کو اڑا دیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ’’قُلْ ‘‘کا لفظ ان مضامین یا سورتوں سے پہلے آتا ہے جن