تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 232

اور اسی وجہ سے میں اس خیال کی تردید اس تفصیل سے کر رہاہوں ورنہ کوئی ضرورت نہ تھی کہ میں اس کے پیچھے پڑتا۔اب میں سب سے پہلی روایت کو لیتا ہوں جسے میں چھوڑ کر آیا تھا اور جو حضرت ابن عباس ؓ سے ابن جریر نے نقل کی ہے۔اس میں دو باتیں جمع ہیں۔اوّل یہ کہ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اتنا مال دیں گے کہ جو آپ کو مکہ میں سب سے زیادہ امیر بنا دے گا اور جس عورت کو آپ پسند کریں اس سے ہم آپ کی شادی کر دیں گے اس کے بدلہ میں آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے باز آجائیں اور اگر آپ ہماری اس بات کو نہ مانیں تو پھر ہم آپ سے یہ کہتے ہیں کہ ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیں گے اور دوسرے سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔(جامع البیان سورۃ الکافـرون) اس روایت کا پہلا حصہ تاریخی طور پر بہت سی روایتوں سے ثابت ہے لیکن اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس پیغام کے سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی پرستش کو نہ چھوڑوں گا( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام مباداۃ رسول اللہ قومہ وماکان منھم) اس جواب کے ہوتے ہوئے زیر بحث حدیث میں یہ فقرہ کتنا بھونڈا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کہا کہ ’’میں اپنے رب کے جواب کے بعد جواب دوںگا۔‘‘تمام دوسری احادیث اور تاریخ اس امر پر متفق ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مطالبہ سنتے ہی کہہ دیا تھا کہ میں اسے ماننے کو تیار نہیں کفار جو چاہیں کر لیں میں خدائے واحد کی عبادت کو ترک نہیں کر سکتا۔جس شخص نے یہ جواب دیا ہو کیا وہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ٹھہر جاؤ میں اصل جواب خدا تعالیٰ کی ہدایت کے بعد دوں گا۔پس دوسری احادیث اور تاریخ کی روشنی میں یہ حصہ اس حدیث کا بالکل غلط اور خلاف عقل ثابت ہوتا ہے۔خود اس حدیث کے مضمون میں بھی اختلاف ہے۔بعض محدثین نے اسی مضمون کی حدیث نقل کی ہے لیکن اس حصہ کو تر ک کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا جواب آنے پر میں جواب دوں گا چنانچہ علامہ زمخشری نے اس حدیث کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔’’بعض قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ اے محمد(صلعم)آئیں آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیں گے۔آپ ایک سال ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اگلے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے۔اس پر آپ نے فرمایا میں کسی کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دینے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں الخ۔‘‘اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ یہ کہتے کہ اچھا ٹھہرو میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس سوال کا کیا جواب دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر ت ایمانی کے