تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 222
طریقہ پر نماز پڑھی۔پس اس آیت میں جو یہ امر بیان کیا گیا ہے کہ نہ تم میرے طریق پر عبادت کرو گے نہ میں تمہارے طریق پر عبادت کروں گا۔یا یہ کہ نہ تم میرے معبود کی عبادت کروگے نہ میں تمہارے معبود کی عبادت کروں گا جیسے مشرکین مکہ پر منطبق ہوتا ہے ویسے ہی باقی دنیا کے کفار پر بھی منطبق ہوتا ہے۔کیونکہ اوّل تو اسلام کے سوا کوئی مذہب دنیا میں ہے ہی نہیں جو توحید کامل کو پیش کرتا ہو۔اگر ظاہری رنگ میں توحید کسی مذہب میں پائی بھی جاتی ہے تو وہ مذہب بھی صفات ِالٰہیہ کے بیان کرنے میں قرآن کریم سے بہت اختلاف رکھتا ہے۔مثلاً یہودی مذہب خدا کو اس رنگ میں پیش کرتا ہے کہ وہ صرف یہودی نسل کے لوگوں کو اپنا قرب عطا کرتا ہے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمان کسی صورت میں بھی اس خدا کی پرستش کرسکتے تھے جس کے متعلق یہ یقین کیا جائے کہ اس نے بنو اسرائیل کو اپنی پیاری قوم قرار دے لیا تھا اور بنو اسرائیل اور دوسری قوموں کے ساتھ سلوک میں و ہ امتیاز اور فرق سے کام لیتا تھا۔ایسے خدا کی پرستش کے تو صاف معنے یہ تھے کہ اسلام جھوٹا ہے کیونکہ اس کا بانی غیر اسرائیلی تھا۔اسی طرح مجوسی مذہب جو کہ یقیناً اہل کتاب میں سے ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی صفات کی تشریح میں بہت اختلاف رکھتا تھا۔پس اگر مشرکین مکہ کے سوا دوسرے مذاہب اسلام کے بتائے ہوئے خدا یا اسلامی طریقہ عبادت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو سکتے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع دوسرے مذاہب کے معبودوں یا ان کے طریق عبادت کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے تو پھر تو کہا جا سکتا تھا کہ گو الفاظ عام ہیں لیکن چونکہ بعض مذاہب ایسے ہیں جو اسلامی طریق عبادت کو اختیار کرسکتے ہیں اور چونکہ بعض مذاہب ایسے ہیں جنہوں نے خدا کا مفہوم ایسے رنگ میں پیش کیا ہے کہ مسلمان ان کی عبادت کرسکتا ہے۔اس لئے اس آیت میں ہم اَلْکٰفِرُوْنَ کے لفظ کے عام معنے نہیں لے سکتے بلکہ اسے صرف ایسے کافروں کے لئے مخصوص کرنا پڑے گا جو نہ ہماری عبادت کر سکتے ہیں نہ ہم ان کی عبادت کر سکتے ہیں۔لیکن ایسا نہیں ہے اور سارے کے سارے غیر مسلم اس مضمون کے نیچے آتے ہیں جو اس سورۃ میں لکھا گیا ہے تو جب یہ بات ہے تو پھر اس سورۃ کے مفہوم کے لحاظ سے اَلْکٰفِرُوْنَ کے لفظ کو محدود اور مخصوص کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ عربی زبان قرآن کریم کے محاورہ اور اس سورۃ کے مضمون پر غور کرنے کے بعد اب ہم خارجی شہادتوں کو لیتے ہیں جن کی وجہ سے اس سورۃ میں مفسرین نے اَلْکٰفِرُوْنَ کو مخصوص اور محدودکرنے کی ضرورت سمجھی۔ابن جریر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اَنَّ قُرَیْشًا دَعَتْ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی اَنْ یُّـعْــطُـوْہُ مَـالًا فَـیَـکُـوْنَ اَغْنٰی رَجُــلٍ بِـــمَـکَّــۃَوَ یُـزَوِّجُوْہُ مَا اَرَادَ مِنَ النِّسَآءِ