تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 221
اختلاف کیا ہے کہ الفاظ کی عمومیت کی وجہ سے معنے بھی عام لئے جائیں گے یا جو مخصوص سبب کلام کا موجب ہوا ہوگا اس کی وجہ سے معنوں کو مخصوص کر دیا جائے گا۔پھر وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہی درست ہے کہ اگر لفظ عام ہوں تو خواہ سبب خاص ہو معنے عام ہی لئے جائیں گے خاص سبب کی وجہ سے معنوں کومحدود نہیں کیا جائے گا۔شیخ محمد الخضری پروفیسر تاریخ اسلامی جامعہ مصری لکھتے ہیں اَلْعَامُ اِذَا وَرَدَ اُخِذَ عَلٰی عُـمُوْمِہٖ اِلَّا اِذَا قَامَ دَلِیلُ التَّخْصِیْصِ وَھُوَ الْمُخَصِّصُ۔یعنی جب الفاظ عام ہوں تو معنے بھی عام ہی لئے جائیں گے سوائے اس کے کہ تخصیص کی کوئی دلیل ہو اور اگر ایسا ہو تومعنے اس تخصیص کی دلیل کی وجہ سے مخصوص ہو جائیں گے نہ کہ الفاظ کی وجہ سے۔(کتاب اصول فقہ ص۲۴۱) لیکن جیسا کہ بتایا گیا ہے یہ بات ہی درست ہے کہ بعض جگہ مضمون عام ہوتا ہے لیکن بات ایک خا ص گروہ کے متعلق ہوتی ہے اور بعض جگہ پر ایک خاص گروہ کو مخاطب کیا ہوتا ہے لیکن مضمون تمام لوگوں پر منطبق ہوتا ہے بشرطیکہ ایسا کرنے پرکوئی قرینہ دلالت کرتا ہو۔اس لئے ہم ان مفسرین کو جنہوں نے اس آیت کو خاص قوم یا خاص افراد پر منطبق کیا ہے اگر ان کے پاس دلیل ہو غلطی پر نہیں کہیں گے کیونکہ یہ چیز جائز ہے اور قرآن کریم میں بھی مستعمل ہے اور دنیا کی باقی زبانوں میں بھی مستعمل ہے۔پس اصل سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اس سورۃ کے متعلق کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جس کی وجہ سے ہم يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے الفاظ کو ایک محدود جماعت کی طرف منسوب کر دیں اور عمومیت سے اس کو خارج کر دیں۔سو اس کے سمجھنے کے لئے پہلے ہم خود قرآنی عبارت کو لیتے ہیں۔اس سورۃ میں يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے الفاظ لکھے گئے ہیں اور قرآن کریم میں غیر مشرکوں کو بھی کافر قرار دیا گیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (البیّنۃ:۲) اس آیت میں کافر کا لفظ جس طرح مشرکوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے اسی طرح یہود و نصاریٰ اور باقی کفار کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔پس قرآنی محاورہ کے رو سے اَلْکٰفِرُوْن کا لفظ عام ہے خاص نہیں۔اب ہم مضمون کو لیتے ہیں تو اس سورۃ کی اگلی آیتوں میں یہ مضمون ہے کہ نہ تو میں اس چیز کی عبادت کروں گا جس چیز کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس چیز کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ظاہر ہے کہ یہ مضمون بھی عام ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ صرف بتوں ہی کی پوجا سے پرہیز نہیں کرتے تھے بلکہ عبادت کے اس مفہوم سے بھی پرہیز کرتے تھے جو یہود اور نصاریٰ اور دوسر ے اہل مذاہب میں پایا جاتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہود کے طریقہ پر نماز نہیں پڑھی، کبھی عیسائیوں کے طریقہ پر نماز نہیں پڑھی، نہ یہوداور نصاریٰ نے کبھی اسلام کے