تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 223

فَقَالُوْا ھٰذَا لَکَ یَا مُـحَمَّدُ وَکُفَّ عَنْ شَتْمِ اٰلِھَتِنَا وَلَا تَذْکُرْ اٰلِھَتَنَا بِسُوْءٍ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَاِنَّا نَعْرِضُ عَلَیْکَ خَصْلَۃً وَّاحِدَۃً وَّلَکَ فِیْـھَا صَلَاحٌ قَالَ مَا ھِیَ قَالُوْا تَعْبُدُ اٰلِھَتَنَا سَنَۃً وَنَعْبُدُ اِلٰھَکَ سَنَۃً قَالَ حَتّٰی اَنْظُرَ مَا یَاْتِیْنِیْ مِنْ رَّبِّیْ فَجَآءَ الْوَحْیُ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ الایۃ وَ اَنْزَلَ اللہُ قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَاِلٰی قَوْلِہٖ الشّٰكِرِيْنَ ( الدّر منثور سورۃ الکافرون) یعنی ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ کے سب آدمیوں سے زیادہ امیر بن جائیں گے اور آپ کی شادی جس عورت سے چاہیں وہ کرا دیں گے۔پھر انہوں نے آپ سے کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)یہ سب کچھ آپ کومل سکتا ہے آپ اس کے بدلہ میں صرف ہمارے معبودوں کو گالیاں دینی چھوڑ دیں اور آئندہ ان کا ذکر بری طرح نہ کیا کریں۔لیکن اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آخری بار آپ کے سامنے ایک بات رکھ دیتے ہیں وہ بات ایسی ہے کہ اس میں ہمارا اور آپ کا دونوں کا فائدہ ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیں گے۔آپ نے فرمایا میں اس وقت تک جواب نہیں دے سکتا جب تک کہ میرے رب کی طرف سے اس کے متعلق ارشاد نہ آجائے۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ وحی نازل ہوئی کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ آخر سورۃ تک۔اسی طرح یہ کہقُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ۔وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ۔( الزّمر :۶۵تا۶۷) اسی طرح سعید بن منیاء مولیٰ ابی البختری سے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی مسند میں اور ابن الانباری نے مصاحف میں یہ روایت نقل کی ہے کہ لَقِیَ الْوَلِیْدُ بْنُ الْمُغِیْرَۃَ وَالْعَاصِیْ بْنُ وَائِلٍ وَالْاَسْوَدُبْنُ الْمُطَّلِبِ وَ اُمَیَّۃُبْنُ خَلْفٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا یَا مُـحَمَّدُ ھَلُمَّ فَلْنَعْبُدْ مَا تَعْبُدُ وَ تَعْبُدْ مَا نَعْبُدُ وَلْنَشْتَرِکْ نَـحْنُ وَ اَنْتَ فِیْ اَمْرِنَا کُلِّہٖ فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ نَـحْنُ عَلَیْہِ اَصَـحُّ مِنَ الَّذِیْ اَنْتَ عَلَیْہِ کُنتَ قَدْ اَخَذْتَ مِنہُ حَظًّا فَاَنْزَلَ اللہُ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ حَتّٰی اِنْقَضَتِ السُّوْرَۃُ۔یعنی ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمدؐ آئیے ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں اور آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اورہم دین کے معاملہ میں سب کے سب شریک ہو جائیں اس سے فائدہ یہ