تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 174

مسیح اور مہدی کا ہے۔مسیح اور مہدی کا ہی وہ زمانہ ہے کہ جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نہ معلوم اس زمانہ کے لوگ اچھے ہیں یا میرے زمانہ کے۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہو گا اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہو گا یعنی اس کا مجھ سے کامل اتحاد ہو گا۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ مسیح میری قبر میں دفن ہوگا( مشکٰوۃ کتاب الفتن الفصل الثالث) مسلمان اس کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر آپ کی قبر میں دفن ہو گا حالانکہ یہ معنے بالبداہت باطل ہیں وہ کون بے حیا انسان ہو گا جو پھاوڑا لے کر کھڑا ہوجائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو کھودے گا تاکسی اور کو اس میں دفن کرے۔کیا اس پر بجلی نہیں گرے گی؟ درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام استعارہ کا رنگ رکھتا تھا اور آپ کی مراد یہ تھی کہ اس کا وجود اور میرا وجود کوئی الگ الگ چیز نہیں۔اسے اللہ تعالیٰ میرے پاس جگہ عنایت فرمائے گا۔مگر بعض مسلمانوں نے اپنی نالائقی سے اس کے یہ معنے کرنے شروع کر دیئے کہ نعوذباللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو کھودا جائے گا اور اس میں مسیحؑ کو دفن کیا جائے گا۔وہ معنے جو میں نے کئے ہیں قرآن کریم سے بھی ثابت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (الطور:۲۲) یعنی جن لوگوں کی اولاد پاک ہو گی ان کی اولاد کو بھی اپنے والدین کے پاس رکھا جائے گا۔یہی مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ وہ آنے والا آپ کا روحانی بیٹا ہو گا اور اس کو آپ کے روحانی مقام کے پاس رکھا جائے گا۔اولاد کا باپ کے پاس ہونا انسان کے لئے راحت اور خوشی کاموجب ہوتا ہے خواہ وہ اس درجہ کی ہو یا نہ ہو۔اسی طرح قرآن کریم میں آنے والے کانام طارق رکھا گیا ہے اور طارق اسے کہتے ہیں جو رات کے اندھیرے میں آئے۔یعنی وہ گمراہی اور تاریکی کے زمانہ میں آئے گا۔حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت علی ؓ تو روشنی کی حالت میں آئے تھے وہ اس کے کس طرح مصداق ہو سکتے ہیں۔غرض اس پیشگوئی کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمِ اسلام کے سب سے بڑے وجود کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اُمت محمدیہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔تبھی تو اس کا نام کوثر رکھا گیا۔یعنی اس کا وجود اُمت محمدیہ کو دوسرے انبیاء کے سلسلوں پر فضیلت دے گا اور اس کی آمد سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کوثریت کا مقام بخشے گا۔یعنی آپ کی اُمت کو دوسری اُمتوں پر برتری بخش دے گا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک اُمت محمدیہ میں کوئی ایسا وجود نہ ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی تمام رسولوں سے افضل ہو اس وقت تک اُمّت محمدیہ دوسری اُمتوں سے افضل ثابت نہیں