تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 173
جس کے معنے بڑے سخی کے ہیں مہدی کی نسبت نہیں مسیح کی نسبت ہے۔پس جب قرآنی پیشگوئی میں معطاء کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کو دیا گیا اور سخاوت کی پیشگوئی حدیث میں مسیح کی نسبت ہے تو ثابت ہوا کہ آنے والا ایک ہی شخص ہے۔دو نہیں۔تیسرے اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہوگا۔مگر موسوی مسیح آپ کا بیٹا نہیں ہو سکتا وہ تو موسوی سلسلہ سے تعلق رکھتا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنے والا آسمان سے نہیں آئے گا اور جب مسیح نے بھی زمین سے ہی آنا ہے تو اسے دوسرا وجود قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔چوتھے حدیث میں مہدی کو بھی آسمان سے آنے والا کہا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ فَارِس اس وقت دین کو ایک فارسی الاصل آدمی آسمان سے واپس لائے گا اور یہ پیشگوئی مہدی کے متعلق ہے۔جب مہدی کو بھی اسلام نے آسمان سے آنے والا قرار دیا ہے تو پھر دو وجود قرار دینے کی کیا ضرورت ہے۔آسمان سے آنے ہی نے ساری مشکل پیدا کی تھی۔جب مہدی کی نسبت بھی آسمان پر جانا اور پھر وہاں سے ایمان کو واپس لانا ثابت ہوا تو پھر مسیح بھی اسی کو کہیں گے۔ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو کہ یہاں کوثر سے مراد سُنّیوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت ابو بکر ؓ یا شیعوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت علی ؓ کیوں نہیں ہو سکتے۔اسے مسیح اور مہدی پر ہی کیوں چسپاں کیا جاتا ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ (۱)یہاں آنے والے کے متعلق معطاء کا لفظ آتا ہے جس کے معنے بہت دینے والے کے ہیں اور یہ نام ان دونوں کو نہیں مل سکتا۔حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں فتوحات تو شروع ہو گئی تھیں مگر دولت نہیں آئی تھی۔دولت حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں آئی تھی۔اس لئے معطاء کا لفظ حضرت ابو بکر ؓ پر چسپاں ہی نہیں ہو سکتا۔باقی رہے حضرت عمر ؓ سو ان کو کوئی بھی حضرت ابو بکر ؓ سے بڑا نہیں سمجھتا۔اس لئے یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا کہ ممکن ہے معطاء حضرت عمر ؓ ہی ہوں۔پھر حضرت علی ؓ کو بھی معطاء نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے کہ حضرت علی ؓ کے زمانہ میں بجائے اور دولت آنے کے مسلمانوں کی پہلی دولت بھی جاتی رہی تھی۔تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں شام اور مصر نے بغاوت کر دی تھی اور یہ دونوں نہایت مالدار علاقے تھے اور انہی کی وجہ سے دولت آتی تھی۔چونکہ یہ مالدار علاقے ان کے قبضہ سے نکل گئے اس لئے حجاز کی ضروریات بھی انہیں بڑی مشکل سے پورا کرنی پڑتی تھیں۔پس حضرت علی ؓ بھی معطاء نہیں کہلا سکتے۔دولت صرف حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں آئی تھی۔لیکن ان کو سب سے بڑا نہ سُنّی کہتے ہیں نہ شیعہ۔علاوہ ازیں اس پیشگوئی کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ پیشگوئی عالمِ اسلام کے بعد ازآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ وجود متفقہ عقیدہ کے مطابق