تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 175

ہوسکتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ آپ سب سے بڑے رسول ہیں مگر بڑے آدمی کی اولاد ضروری تو نہیں کہ بڑی ہو۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا لڑکا ایک عظیم الشان باپ کی اولاد میں سے تھا مگر خراب نکلا۔پس یہ ضروری نہیں کہ اولاد ہمیشہ اپنے باپ جیسی ہو۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت دوسری اُمتوں سے اسی وقت افضل ثابت ہو سکتی ہے جب اس میں کوئی ایسا فرد پیدا ہو جائے جو آپ کا اُمتی ہوتے ہوئے دوسرے تمام انبیاء سے افضل ہو اور جب کوئی ایسا آدمی پیدا ہو جائے گا تو خود بخود آپ کی امت بھی افضل ثابت ہو جائے گی۔غرض ان آخری معنوں کے رُو سے اس آیت میں مسیح اور مہدی کی جو ایک ہی وجود ہیں پیشگوئی کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو ایک روحانی بیٹا عطا کرنے والے ہیں جس کے پیدا ہونے پر آپ کی امت دوسرے انبیاء کی امتوں پر فضیلت پا جائے گی۔کیونکہ وہ بیٹا آپ کی امت سے ہو گا اور پہلے لوگوں سے افضل۔پس اس کی افضیلت سے آپ کی اُمت کو فضیلت ملے گی۔یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَوْ کَانَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ۔اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اطاعت کرتے۔اعتراض کرنے والے کہہ سکتے تھے کہ ان الفاظ میں یوں ہی ایک دعویٰ کر دیا گیا ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ بھی۔اب یہ کیونکر پتہ لگے کہ اگر وہ دونوں زندہ ہوتے تو آپ کی اطاعت کرتے۔زندہ شخص کے ساتھ تو مقابلہ بھی ہو سکتا ہے لیکن مرنے والے کے ساتھ کیا مقابلہ ہو سکتا ہے اور کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے جو بات کہی ہے وہ درست ہے۔یہ سوال اس حدیث کے متعلق طبعی طور پر پیدا ہوتا ہے اور اس کا حل اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی ایسا شخص ہو جو اپنے آپ کو آپؐکا غلام کہے اور پھر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے افضلیت کا دعویٰ کرے۔پھر بے شک یہ ثابت ہو جائے گا کہ چونکہ آپ کی امت میں سے ایک ایسا آدمی پیدا ہو گیا ہے جو موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے افضل ہے اور پھر وہ آپ کا غلام ہے۔اس لئے اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام واقعہ میں زندہ ہوتے تو وہ بھی آپ کے غلام ہی ہوتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے کہ لَوْ کَانَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اتِّبَاعِی ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے افضل ہوں اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل غلام ہوں۔مسلمان کہتے ہیں