تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 13

نہیں کر سکتا۔خود شُرّاح ان معنوں سے گھبرا گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے جو شوں شوں کی آواز آتی ہے وہ کوثر کی آواز ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کان کی آواز کوثر کی آواز سے مشابہ ہے ( ابن کثیر تفسیر سورۃ الکوثر) میرے نزدیک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بالکل صحیح ہے مگر جس نے اس کے یہ معنے کئے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے جو شوں شوں کی ہلکی سی آواز پیدا ہوتی ہے وہ کوثر کی آواز ہے اس نے احمقانہ معنے کئے ہیں اور وہ اپنی جہالت کا آپ ذمہ وار ہے۔نہ حضرت عائشہؓ نے اس کے یہ معنے کئے ہیں اور نہ شرّاحِ حدیث نے اس کے یہ معنے کئے ہیں۔بلکہ میرے نزدیک جو معنے شرّاحِ حدیث نے کئے ہیں وہ بھی صحیح نہیں۔آخر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ حضرت عائشہؓ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے اور نہ معراج میں حضرت عائشہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں کہ انہوں نے کوثر کو دیکھا ہو اور اس کی آواز کو سنا ہو اس وقت تو آپ کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔جب معراج میں آپ اکیلے ہی تشریف لے گئے تھے اور آپ نے ہی کوثر کو دیکھا اور اس کی آواز کو سنا تو پھر آپؐہی بتا سکتے تھے کہ کوثر کی آواز کیسی ہے۔پھر اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرماتیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا ہے کہ کوثر کی آواز ایسی ہے تب بھی کوئی بات تھی۔مگر حضرت عائشہ ؓ نے اس قسم کا بھی کوئی فقرہ استعمال نہیں کیا۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر کوثر ایک نہر ہے تو اس کی آواز کوئی نئی قسم کی نہیں ہو سکتی بہر حال جیسے دنیا کی تمام نہروں کی آواز ہو تی ہے ویسے ہی کوثر کی آواز ہو گی۔اس کے لئے کانوں میں انگلیاں ڈال لینا اپنے اندر کوئی معقولیت نہیں رکھتا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان بعض دفعہ استعارہ میں بات کرتا ہے اور سننے والے اس کے کچھ اور معنے کر لیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں مَیں نماز پڑھا کر گھر جا رہا تھا کہ ہجوم میں سے کسی شخص نے مجھے انگور دیئے۔مجھے اس وقت معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس شخص نے دیئے ہیں۔انگور بہت میٹھے تھے مگر چونکہ دینے والے کو میں نے دیکھا نہیں تھا میں نے گھر آکر کہہ دیا کہ یہ انگور مجھے کوئی فرشتہ دے گیا ہے۔میرا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بھجوائے ہیں مگر لوگوں میں یہ روایت چل پڑی کہ مجھے واقعہ میں کوئی فرشتہ انگور دے گیا ہے اور بعض دوستوں نے تو مجھے پیغام بھیجنے شروع کر دیئے کہ اگر وہ انگور آپ کے پاس ہوں تو ہمیں بھی بطور تبرک کچھ بھجوا دیں۔میں نے دوستوں کو بتایا کہ انگور تو مجھے کسی آدمی نے دیئے تھے لیکن ہجوم میں مجھے پتہ نہیں لگ سکا تھا کہ وہ کون ہے اس لئے میں نے کہہ دیا کہ فرشتے نے دیئے ہیں ورنہ دینے والا ایک انسان تھا کوئی فرشتہ نہیں تھا۔اسی طرح یہاں بھی استعارہ