تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 14

میں کلام کیا گیا ہے۔حضرت عائشہ ؓ سے کسی شخص نے اپنی حماقت سے سوال کر دیا کہ کوثر کی آواز کیسی ہے۔آپ نے اسے استعارہ میں جواب دیا کہ تم اپنے کانوں میں انگلیا ں ڈال لو تمہیں کوثر کی آواز آنے لگ جائے گی۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ جب انسان دنیا سے اپنے کان بند کر کے دل کی آواز سنتا ہے یعنی فطرت صحیحہ یا اسلام کی آواز کو سنتا ہے تو وہ کوثر کی آواز کو سن لیتا ہے۔یعنی کوثر تک پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔مگر سننے والوں نے اس کا یہ مطلب لے لیا کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لو تو اس کے نتیجہ میں جو شوں شوں کی آواز پیدا ہو گی وہ کوثر کی آواز ہے۔احادیث میں کوثر کے معنے جو نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ کےکئےگئے ہیں یہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اس لئے ان کا انکار نہیںکیا جاسکتا گو زیادہ تر روایات حضرت انس بن مالکؓ سےآتی ہیں لیکن بعض احادیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہیں۔بہرحال یہ احادیث صحیح ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ (ا) اس سورۃ میں اسی کوثر کا ذکر ہے جس کے معنے نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ کے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کوثر کیا چیز ہے آپ نے فرمایا میں معراج کی رات ارتقاء کرتے کرتے ایک مقام پر پہنچا وہاں میں نے ایک نہر دیکھی میں نے جبریل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ جبریل نے بتایا کہ یہ کوثر ہے۔اس جواب سے یہ کیونکر نتیجہ نکل آیا کہ یہ وہی کوثر ہے جس کا سورۃ الکوثر میں ذکر آتا ہے جب کہ واقعہ یہ ہے کہ یہ سورۃ اور وقت میں نازل ہوئی ہے اور معراج اور وقت میں ہوا ہے۔یہ سورۃ بھی مکی ہے اور معراج بھی مکی ہے مگر یہ سورۃ معراج سے چھ سات سال پہلے کی نازل شدہ ہے۔دو ملتی جلتی چیزوں کو دیکھتے ہوئے ایک کے ذکر سے دوسری چیز کا خیال کر لینا تو طبعی بات ہے مگر اس پر حصر کر لینا خلاف عقل ہے ہمارے ہاں ایک استانی تھیں جو بہت ہی مخلص عورت تھیں۔ان کے دماغ میں کچھ نقص پیدا ہو گیا تھا۔ایک دن وہ ہمارے گھر میں بیٹھی تھیں کہ زلزلہ آیا۔ہماری نانی امّاں، وہ مجنون استانی اور دو اور عورتیں چار پائی پر بیٹھی تھیں۔نانی امّاں مرحومہ نے فرمایا زلزلہ آیا ہے اس پر وہ استانی کہنے لگیں آپ اطمینان سے بیٹھی رہیں زلزلہ کوئی نہیں آیا صرف میرا سر چکرایاہے۔اب دیکھو اگر اس عورت کا سر کبھی کبھی چکراتا تھا تو اس کے یہ معنے تو نہیں تھے کہ اگر زلزلہ کی وجہ سے چارپائی ہلی ہے تب بھی اس کا سر چکرایا ہے چارپائی نہیں ہلی۔یہاں بھی بالکل ویسی ہی بات ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جنت میں ایک نہر ہے جس کی مٹی مشک جیسی ہے۔پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس کا نام کوثر ہے لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ سورۂ کوثر میں بھی اسی کا ذکر آتا ہے حالانکہ سورۂ کوثر والی کوثر اور چیز ہے اور جنت والی کوثر اور۔سورۂ کوثر کی کوثر کو جنت والی کوثر سے محدود نہیں کیا جا سکتا۔غر ض اگر یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ اس سورۃ میں بھی اسی نہر کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت