تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 12
پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے؟ جبریل نے کہا یہ کوثر ہے۔یہ حدیث مسلم میں بھی آتی ہے مگر حدیث کے وہ الفاظ جو میں نے اوپر درج کئے ہیں بخاری کے ہیں۔ابن جریر تابعی جو ایک مشہور مفسر گذرے ہیں اور جنہوں نے جامع البیان کے نام سے تیس جلدوں میں تفسیر لکھی ہے وہ حضرت انس سے روایت درج کرتے ہیں کہ سُئِلَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَوْثَرِ فَقَالَ هُوَ نَـهْرٌ أَعْطَانِيْهِ اللّهُ فِي الْـجَنَّةِ تُرَابُہٗ مِسْکٌ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلٰی مِنَ الْعَسَلِ تَرِدُہُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ اَعْنَاقِ الْـجُزُرِ۔قَالَ اَبُوْ بَکْرٍيَا رَسُولَ اللّهِ إِنَّـهَا لَنَاعِـمَةٌ قَالَ اٰكِلُهَا أَنْعَمُ مِنْـهَا (ابن جریر تفسیر سورۃالکوثر )یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کوثر کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے اس کی مٹی مشک کی طرح ہے اور پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اس پر ایسے پرندے آتے ہیں جن کی گردنیں گاجر کی طرح نرم ہیں حضرت ابوبکرؓنے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان پرندوں کی گردنیں گاجر کی طرح نرم ہیں تب تو وہ بہت ہی نرم ہوئیں۔آپ نے فرمایا جو ان جانوروں کے کھانے والے ہیں وہ ان سے بھی زیادہ نرم ہیں۔امام احمد بن حنبلؒ نے بھی اپنی مسند میں یہی روایت نقل کی ہے لیکن اس میں یہ فرق ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکرؓ کی بجائے حضرت عمرؓ کا نام لیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ایک روایت حضرت عائشہؓ سے بھی آتی ہے بخاری میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہؓ سے سوال کیا گیا کہ کوثر کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا کوثر ایک نہر ہے جو جنت میں ہو گی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ عطا کی جائے گی۔(بخاری ابواب التفسیر ) کوثر کی آواز سنے جانے کے متعلق حضرت عائشہؓ کی ایک روایت اور اس کے صحیح معنے ایک اور روایت میںحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص کوثر کی آواز سننا چاہے وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لے تو اسے کوثر کی آواز آنے لگ جائے گی۔یہ ابوکریب کی روایت ہے جو ایک بہت بڑے محدث گذرے ہیں (ابن جریر تفسیر سورۃ الکوثر ) عام طور پر لوگ اس کے یہ معنے سمجھتے ہیں کہ کانوںمیں انگلیاں ڈالنے سے جو شوںشوں کی آواز آتی ہے وہی کوثر کی آواز ہے۔لیکن یہ معنے عقل کے بالکل خلاف ہیں۔اس لئے کہ وہ آواز کان کے اندر سے پیدا ہو تی ہےکسی بیرونی چیز کا اس میں دخل نہیں ہوتا اور کوثر کی آواز ایک بیرونی چیز ہے۔پس یہ معنے تو قطعی طور پر جاہلانہ ہیں اور کوئی شخص جو ذرا بھی عقل و فہم رکھتا ہوحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ان کو منسوب