تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 157
(۲۷) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جو بے مثال تقویٰ پایا جاتا تھا اس کا اس امر سے پتہ چل سکتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے ایک دن اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ انسان خواہ کتنا بڑا ہو اس سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ نہیں چھوڑتا۔میں ڈرتا ہوں کہ مجھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو جس کی وجہ سے میں خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم بنوں۔اگر تم میں سے کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔صحابہؓ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اس کا اندازہ دوسرے لوگ کہاں کر سکتے ہیں۔ان کے تو ہوش اڑ گئے۔مگر ایک صحابیؓنہایت اطمینان سے آگے بڑھے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہے۔ایک دفعہ ایک لڑائی میں آپ صفیں ٹھیک کروارہے تھے میں بھی صف میں کھڑا تھا کہ آپ میرے پیچھے سے آئے اس وقت آپ کی کہنی مجھے لگی تھی۔یا رسول اللہ میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں لے لو۔یہ دیکھ کر دوسرے صحابہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور شاید اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سامنے نہ ہوتے تو وہ اس صحابی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔مگر اس صحابیؓ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس نے کہا یا رسول اللہ میرے جسم پر اس وقت کرتہ نہیں تھا آپ کا تو کرتہ ہے۔آپ نے فرمایا۔اچھا کرتہ اٹھالو۔اس نے کرتہ اٹھایا اور آگے بڑھ کر نہایت ادب اور پیار کے ساتھ اس نے آپ کی پیٹھ پر بوسہ دیا اور پھر اشکبار آنکھوں کے ساتھ اس نے کہا یا رسول اللہ آپ سے بدلہ کیسا۔یہ تو میں نے پیار کرنے کا ایک بہانہ بنایا تھا اور چاہاتھا کہ آپ کی اجازت سے اس طرح فائدہ اٹھالوں شاید مجھے پھر پیار کا موقعہ ملے یا نہ ملے۔یہ نظارہ دیکھ کر باقی صحابہؓ جو بہت غصہ میں تھے وہ اس صحابی پر رشک کرنے لگے کہ کاش یہ بہانہ ہمیں بھی سوجھتا اور آج ہم بھی پیار کر لیتے۔لیکن آپ کا تقویٰ دیکھو کہ اتنی خدمات کے باوجود آپ نے فرمایا۔اگر کوئی ادنیٰ سا بھی دکھ مجھ سے کسی کو پہنچا ہو تو وہ آکر مجھ سے بدلہ لے لے(المعجم الکبیر للطبرانی جلد ۳ صفحہ ۵۹،۶۰) (۲۸) آپ کے انکسار کی یہ حالت تھی کہ آپ اپنے آنے پر لوگوں کو کھڑے ہونے سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ تو ایرانیوں کا رواج ہے۔میں بادشاہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے مجھے نبی بنایا ہے۔(ابو داؤد کتاب الادب باب فی قیام الرجل ) آپ کے انکسار کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک دن ایک انصاری بیمار ہو گئے۔آپ اس کی تیمار دار ی کے لئے تشریف لے گئے۔واپسی پر اس انصاری نے آپ کو سواری کے لئے ایک گھوڑا دیا اور اپنے بیٹے سے کہاکہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ شاید آپ کو اور آدمی تلاش کرنے میں دقت ہو اور آتی دفعہ گھوڑا واپس لے آناتھوڑی دیر کے بعد ان کا بیٹا واپس آگیا۔باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ میں نے تو تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجا تھاتا راستہ میں حفاظت بھی ہو جائے اور گھوڑا بھی نہ بدکے اور تم واپس آ گئے ہو۔بیٹے نے جواب دیا۔میں مجبور تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم بھی میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔میں نے کہا یا رسول اللہ مجھ سے اتنی بے ادبی نہیں ہو سکتی۔آپ نے فرمایا پھر مجھ سے بھی برداشت نہیں ہو سکتا کہ تم پیدل چلو اور میں گھوڑے پر سوار ہوں یا تو تم بھی میرے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوجاؤاور یا پھر واپس چلے جاؤ۔چنانچہ میں واپس آگیا۔(۲۹) اپنے غریب صحابہؓ سے جو آپ کو محبت تھی اور ان کے احساسات اور جذبات کا آپ جس قدر خیال رکھتے تھے اس کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ایک صحابیؓ بہت بد صورت تھے۔وہ بیچارے مزدور تھے۔ایک دفعہ وہ مزدوری کے لئے کہیں کھڑے تھے۔پسینہ آیا ہو اتھا اور چہرے پر افسردگی طاری تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور جس طرح بچے آپس میں کھیلا کرتے ہیں آپ نے ان کے پیچھے سے آکران کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے وہ صحابی ؓ بھی سمجھ گئے۔وہ جانتے تھے کہ میں غریب ہوں پھر پسینہ آیا ہواہے۔مٹی سے میرا جسم لت پت ہے اور ویسے بھی میں بدصورت ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کون ہو گا جو مجھ سے پیار کرے۔پھر انہوں نے ہاتھ پھیر کر بھی پہچان لیا تھا کہ یہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔کیونکہ آپ کا جسم بہت ملائم تھا۔مگر آپ کی محبت کو دیکھ کر انہیں بھی جوش آگیا اور انہوں نے اپنا جسم آپ کے ساتھ خوب رگڑا۔جب آپ ؐ نے دیکھا کہ ان کا دل خوش ہو گیا ہے تو آپؐبول پڑے اور فرمایا ہم ایک غلام بیچتے ہیں اسے کون لے گا۔اس صحابیؓ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے کون خرید سکتا ہے۔آپؐنے فرمایا خدا اور اس کے رسول کی نظر میں تمہاری بڑی قیمت ہے۔(مسند احـمد بن حنبل مسند انس بن مالک)