تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 156
انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں سارے کام خود ہی کرتی ہوں، بچوں کو پالتی ہوں،کھانا پکاتی ہوں،چکی پیستی ہوں۔آپ مجھے کوئی خادم عنایت فرمائیں تاکہ ان کاموں میں مجھے مدد مل سکے ان دنوں چونکہ کوئی خاص محکمہ قیدی رکھنے کا نہ تھا اس لئے جو قیدی آتے تھے وہ لوگوں میں تقسیم کر دیئے جاتے تھے۔حضرت فاطمہؓ کا اشارہ بھی اسی بات کی طرف تھا کہ مجھے بھی کوئی قیدی دے دیا جائے جو گھر کے کاموں میں میری مدد کر سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹی تم کیوں غمگین ہو تم نماز کے بعد ذکر الٰہی کیا کرو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہاری ان تکلیفوں کو دور فرمادے گا۔اس طرح آپ نے ان کی دلجوئی بھی کر دی اور بادشاہ بن کر بھی غربت کو ہی پسند کیا۔(بخاری کتاب النفقات باب عمل المرأۃ فی بیت زوجھا) (۲۷) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جو بے مثال تقویٰ پایا جاتا تھا اس کا اس امر سے پتہ چل سکتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے ایک دن اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ انسان خواہ کتنا بڑا ہو اس سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ نہیں چھوڑتا۔میں ڈرتا ہوں کہ مجھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو جس کی وجہ سے میں خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم بنوں۔اگر تم میں سے کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔صحابہؓ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اس کا اندازہ دوسرے لوگ کہاں کر سکتے ہیں۔ان کے تو ہوش اڑ گئے۔مگر ایک صحابیؓنہایت اطمینان سے آگے بڑھے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہے۔ایک دفعہ ایک لڑائی میں آپ صفیں ٹھیک کروارہے تھے میں بھی صف میں کھڑا تھا کہ آپ میرے پیچھے سے آئے اس وقت آپ کی کہنی مجھے لگی تھی۔یا رسول اللہ میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں لے لو۔یہ دیکھ کر دوسرے صحابہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور شاید اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سامنے نہ ہوتے تو وہ اس صحابی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔مگر اس صحابیؓ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس نے کہا یا رسول اللہ میرے جسم پر اس وقت کرتہ نہیں تھا آپ کا تو کرتہ ہے۔آپ نے فرمایا۔اچھا کرتہ اٹھالو۔اس نے کرتہ اٹھایا اور آگے بڑھ کر نہایت ادب اور پیار کے ساتھ اس نے آپ کی پیٹھ پر بوسہ دیا اور پھر اشکبار آنکھوں کے ساتھ اس نے کہا یا رسول اللہ آپ سے بدلہ کیسا۔یہ تو میں نے پیار کرنے کا ایک بہانہ بنایا تھا اور چاہاتھا کہ آپ کی اجازت سے اس طرح فائدہ اٹھالوں شاید مجھے پھر پیار کا موقعہ ملے یا نہ ملے۔یہ نظارہ دیکھ کر باقی صحابہؓ جو بہت غصہ میں تھے وہ اس صحابی پر رشک کرنے لگے کہ کاش یہ بہانہ ہمیں بھی سوجھتا اور آج ہم بھی پیار کر لیتے۔لیکن آپ کا تقویٰ دیکھو کہ اتنی خدمات کے باوجود آپ نے فرمایا۔اگر کوئی ادنیٰ سا بھی دکھ مجھ سے کسی کو پہنچا ہو تو وہ آکر مجھ سے بدلہ لے