تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 158

ہے۔(مسند احـمد بن حنبل مسند انس بن مالک) اسی قسم کا حضرت ابو ہریرہؓ کا واقعہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ ہمیشہ مسجد میں رہتے تھے تا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی بات کریں وہ اس کے سننے سے محروم نہ رہیں چونکہ آپ کوئی کمائی نہیں کرتے تھے اس لئے کچھ دیر تو ان کا بھائی کھانا پہنچاتا رہا۔لیکن جب اس نے دیکھا کہ اب تو ملّاں ہی بن گیا ہے کوئی کام نہیں کرتا تو اس نے کھانا دینا بند کر دیااس وجہ سے بعض دفعہ آپ کو کئی کئی وقت کافاقہ ہو جاتا تھا اور بھو ک کی وجہ سے آپ کی بری حالت ہو جاتی تھی۔ایک دن جب آپ کو شدت کی بھوک لگی ہوئی تھی آپ مسجد کی ایک کھڑکی میں کھڑے ہو گئے اور خیال کیا کہ رستہ سے جو صحابی گذرے گا میں اس سے اس آیت کا مطلب پوچھوں گا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے شاید اسے میرا خیال آجائے اور مجھے کھانا کھلادے۔اتفاقاً سب سے پہلے حضرت ابو بکرؓ گذرے۔حضرت ابو ہریرہؓ نے آپ سے پوچھا قرآن کریم میں یہ جو آیت ہے وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر:۱۰) اس کا کیا مطلب ہے حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ دوسروں کا بہت خیال رکھتے ہیں اور خود بھوکے رہتے ہیں اور اپنا کھانا دوسرے کو دے دیتے ہیں۔آپ نے یہ جواب دیا اور چلے گئے۔پھر حضرت عمرؓ گذرے۔حضرت ابو ہریرہؓ نے ان سے بھی یہی سوال کیا۔انہوں نے بھی وہی جوا ب دیا جو حضرت ابو بکر ؓ نے دیا تھا اور پھر آگے چلے گئے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ غصے میں آگئے اور کہنے لگے۔یہ کوئی مجھ سے زیادہ قرآن کریم جانتے ہیں۔میں نے تو خیال کیا تھا کہ شاید میری شکل دیکھ کر انہیں میر اخیال آجائے گا اور کھانا کھلادیں گے مگر یہ معنے بتاتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں۔وہ غصہ میں کھڑے ہی تھے کہ پیچھے سے ایک پیار کی آوا زآئی۔ابو ہریرہ ؓ تم بھوکے ہو! یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تھی۔گویا ابو بکرؓ اور عمرؓ،ابو ہریرہؓ کاچہرہ دیکھ کر بھی یہ نہ پہچان سکے کہ وہ بھوکے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کی آواز سے پہچان لیا کہ وہ بھو کے ہیں۔حضرت ابو ہریرہؓ پیچھے مڑے اور انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ سخت بھوک لگی ہوئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو ہریرہؓ ہم بھی بھو کے تھے مگر ایک دوست نے دودھ کا ایک پیالہ بھیج دیا ہے آؤ ہم دودھ پئیں۔ابو ہریرہؓ بہت خوش ہوئے اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔آپ نے فرمایا۔ابو ہریرہؓ مسجد میں جاؤ اور دیکھو شاید کچھ اور لوگ بھی بھو کے ہوں اور اگر ایسا ہو تو ان کو بھی ساتھ لے آؤ ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ سن کر سخت افسوس ہوا کہ ایک پیالہ بھر دودھ ہے اسے بھلا کون کون پئے گا۔لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا اس لئے میں چلا گیا میں نے دیکھا تو مسجد میں میرے جیسے چھ آدمی اور تھے۔ان کو بھی میں نے ساتھ لیا اور چل پڑا۔مجھے رہ رہ کر افسوس آرہا