تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 147

کیں مگر تین ہزار کے تازہ دم لشکر کے سامنے وہ تاب نہ لا سکے اس حملہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو دانت بھی ٹوٹے اور آپ کی خود میں بھی ایک پتھر لگا جس کی وجہ سے خود کا ایک کیل آپ کے سر میں دھنس گیا جس سے آپ بے ہوش کر ایک گڑھے میں گر گئے آپ کے پاس جو صحابہؓ کھڑے تھے ان کی لاشیں آپ کے اوپر آپڑیں اور آپ کا جسم اطہر نیچے چھپ گیا۔اور مسلمانوں میں شور مچ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں مسلمانوں کے قدم پہلے ہی اکھڑے ہوئے تھے اس خبر نے ان کے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیئے۔مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کہ جب کفار میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مارے جا چکے ہیں تو اس کے بعد انہوں نے مزید حملہ نہ کیا۔بلکہ یہی مناسب سمجھا کہ اب جلدی مکہ کو لوٹ چلیں اور لوگوں کو یہ خوشخبری سنائیں کہ نعوذ با للہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مارے جا چکے ہیں۔جب مسلمانوں کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو وہ جلدی جلدی واپس لوٹے اور انہوں نے آپ کے اوپر سے لاشوں کو ہٹایا۔معلوم ہو اکہ آپ ابھی زندہ ہیں اور سانس لے رہے ہیں۔اس وقت سب سے پہلے آپ کے خود کاکیل نکالا گیا یہ کیل نکلتا نہیں تھا آخر ایک صحابی ؓ نے اپنے دانتوں سے نکالا جس کی وجہ سے ان کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر آپ کے منہ پر پانی چھڑ کا گیا تو آپؐہو ش میں آگئے اکثر صحابہ ؓ تو تتر بتر ہو چکے تھے صرف چند صحابہ کا گروہ آپ کے پاس تھا۔آپ نے ان سے فرمایا ہمیں اب پہاڑ کے دامن میں چلے جانا چاہیے چنانچہ آپ ان کو لےکر ایک پہاڑی کے دامن میں چلے گئے اور پھر باقی لشکر بھی آہستہ آہستہ اکٹھا ہو نا شروع ہوا کفار کا لشکر جب واپس جا رہا تھا تو ابو سفیان نے بلند آواز سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا اور کہا ہم نے اسے مار دیا ہے صحابہؓ نے جواب دینا چاہا مگر آپ نے ان کو روک دیا اور فرمایا یہ موقعہ نہیں ہمارے آدمی تتر بتر ہوچکے ہیں کچھ مارے گئے ہیں اور کچھ زخمی ہیں ہم تھوڑے سے آدمی یہاں ہیں اور پھر تھکے ماندے ہیں۔کفار کا لشکر تین ہزار کا ہے اور وہ بالکل سلامت ہے ایسی حالت میں جواب دینا مناسب نہیںوہ اگر کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مار دیا ہے تو کہنے دو۔چنانچہ آپ کی ہدایت کے مطابق صحابہؓ خاموش رہے۔جب ابو سفیان کو کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا ہم نے ابوبکرؓ کو بھی مار دیا ہے۔آپ نے صحابہ ؓ کو پھر جواب دینے سے روک دیا اور فرمایا خاموش رہو۔وہ کہتا ہے تو کہنے دو چنانچہ صحابہؓ اس پر بھی خاموش رہے۔ابو سفیان کو جب پھر کوئی جواب نہ ملا توا س نے کہا ہم نے عمرؓ کو بھی مار دیا ہے حضرت عمرؓ بڑے تیز طبیعت کے تھے۔آپ بولنے لگے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع کر دیا۔بعد میں آپ نے بتایا کہ میں کہنے لگا تھا کہ تم کہتے ہو ہم نے عمرؓ کو مار دیا ہے حالانکہ عمرؓاب بھی تمہارا سر