تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 148
توڑنے کے لئے موجود ہے۔بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی جواب دینے سے منع کر دیاجب ابوسفیان نے دیکھا کہ کوئی جواب نہیں آیا تو اس نے نعرہ مارا اُعْلُ ھُبُلْ۔اُعْلُ ھُبُلْ یعنی ہبل دیوتا جسے ابو سفیان بڑا سمجھتا تھا اس کی شان بلند ہو۔ہبل کی شان بلندہو(یعنی آخر ہمارے ہبل نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھیوں کو مار ہی دیا) صحابہؓ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بولنے اور جواب دینے سے منع فرمایا تھا اس لئے وہ اب بھی خاموش رہے مگر خدا کا وہ رسول جس نے اپنی موت کی خبر سن کر کہا تھا کہ خاموش رہوجواب مت دو، حضرت ابوبکرؓ کی موت کی خبر سن کر کہا تھا خاموش رہو جواب مت دو، حضرت عمرؓ کی موت کی خبر سن کر کہا تھا خاموش رہو جواب مت دو اور جوباربار کہتا تھا کہ اس وقت ہمارا لشکر پراگندہ ہے اور خطرہ ہے کہ دشمن پھر حملہ نہ کردے اس لئے خاموشی کے ساتھ اس کی باتیں سنتے چلے جاؤ۔اس مقدس انسان کے کانوں میں جب یہ آواز پڑی اُعْلُ ھُبُلْ۔اُعْلُ ھُبُلْ۔ہبل کی شان بلند ہو۔ہبل کی شان بلند ہو۔توا س کے جذبہ توحید نے جوش مارا کیونکہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال نہیں تھا۔اب ابوبکرؓ اور عمرؓ کا سوال نہیں تھا۔اب اللہ تعالیٰ کی عزت کا سوال تھا۔آپ نے بڑے جوش سے فرمایاتم کیوں جواب نہیں دیتے۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کیا جواب دیں؟آ پ نے فرمایا کہو اَللہُ عَزَّوَجَلَّ۔اَللہُ عَزَّوَجَلَّ ہبل کیا چیز ہے۔خدا تعالیٰ کی شان بلند ہے خدا تعالیٰ کی شان بلند ہے۔یہ کتنا شاندار مظاہرہ آپ کے جذبہ توحید کا ہے۔آپ نے تین دفعہ صحابہؓ کو جواب دینے سے روکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو خطرہ کی اہمیت کا پورا احساس تھا۔آپ جانتے تھے کہ اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا ہے اور بہت کم لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔اکثر صحابہ زخمی ہوگئے ہیں اور باقی تھکے ہوئے ہیں۔اگر دشمن کو یہ معلوم ہوگیا کہ اسلامی لشکر کا ایک حصہ جمع ہے تو وہ کہیں پھر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔مگر ان حالات کے باوجود جب خدتعالیٰ کی عزت کا سوال آیا تو آپ نے خاموش رہنا برداشت نہ کیا اور سمجھا کہ دشمن کوخواہ پتہ لگے یا نہ لگے۔خواہ وہ حملہ کرے اور ہمیں ہلاک کردے۔اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔چنانچہ آپ نے صحابہؓ سے فرمایا تم خاموش کیوں ہو جواب کیوں نہیں دیتے کہ اَللہُ عَزَّوَجَلَّ۔اَللہُ عَزَّوَجَلَّ۔( السیرۃ الـحلبیۃ غزوۃ احد و السیرۃ النبویۃ لابن ھشام و خبر عاصم بن ثابت وبـخاری کتاب الـجھاد و السیر باب ما یکرہ من التنازع والاختلاف فی الـحرب۔۔۔۔۔) (۱۷) کمزوروں کی حفاظت کا جذبہ بھی آپ کے اندر بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔جنگ احزاب میں کفار کی تعداد پندرہ ہزار کی تھی۔اور مسلمان لشکر کی تعداد صرف بارہ سو۔بعض نے دشمن کا اندازہ اس سے زیادہ بتایا ہے اور بعض نے کم۔یوروپ والے صرف دس ہزار بتاتے ہیں تاکہ بڑے لشکر کی شکست سے وہ شرمندہ نہ ہوں۔اس کے مقابلہ