تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 146
لوگ اس درے پر کھڑے تھے انہوں نے اپنے افسر سے کہا کہ ہمیں بھی تھوڑا بہت جہاد میں حصہ لینے کی اجازت دیں۔اسلام کو فتح حاصل ہو گئی ہے اور اب کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ خواہ فتح ہو یا شکست۔ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں۔اس جگہ سے نہ ہلیں۔اس لئے ہمیں یہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ خواہ فتح ہو جائے تب بھی یہاں سے نہیں ہٹنا۔آپ نے تو ہمیں احتیاطاً یہاں کھڑا کر دیا تھا۔دشمن اب بھاگ گیا ہے اور اسلام کو فتح حاصل ہو گئی ہے۔اب اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم اس جگہ کو چھوڑ دیں اور جہاد میں تھوڑا بہت حصہ لے لیں۔افسر نے کہا جب حاکم حکم دے دیتا ہے تو ماتحت کا یہ حق نہیں ہو تا کہ وہ اپنی عقل کو دوڑائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا تھا کہ یہاں سے نہیں ہلنا۔خواہ فتح ہو یا شکست۔ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں اور تاکید فرمائی تھی کہ اس جگہ کو نہ چھوڑا جائے اس لئے آپ کی ہدایت کے مطابق ہمیں یہیں ٹھہرنا چاہیے۔مگر انہوں نے یہ بات نہ مانی اور اپنی غلطی پر انہوں نے اس قدر اصرا ر کیا کہ اپنے افسر سے کہا۔آپ ٹھہرے رہیں ہم تو جاتے ہیں۔چنانچہ اکثر ان میں سے چلے گئے۔صرف افسر اور اس کے چند ساتھی باقی رہ گئے۔جب کفار کا لشکر بھاگا۔خالدؓ بن ولید بڑے ذہین اور ہو شیار تھے۔اسلام میں بھی آپ نے شاندار کام کئے ہیں اور کفار میں بھی آپ بڑے پایہ کے جر نیل تھے۔آپ جب اپنے لشکر کے ساتھ بھاگے جارہے تھے تو اچانک ان کی نگاہ اس درہ پر پڑی اور وہ خالی نظر آیا۔آپ کے ساتھ عمروؓ بن العاص بھی تھے۔آپ نے عمروؓ سے کہا ہمیں اعلیٰ درجہ کا موقعہ مل گیا ہے۔عمرو ؓ نے بھی اس طرف دیکھا اور دونوں اپنا دستہ لے کر واپس لوٹے۔خالدؓ بن ولید نے ایک طرف سے چکر لگاکر درہ پر حملہ کیا اور عمر وؓ بن عاص نے دوسری طرف سے۔اور درہ پر جو چند آدمی موجود تھے ان کو مار کر انہوں نے مسلمانوں پر پشت کی طرف سے حملہ کر دیا۔مسلمان اس درہ کی طرف سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے اورتتر بتر ہو چکے تھے صفیں ٹوٹ چکیں تھیں اور بچے کھچے دشمن کا پیچھا کر رہے تھے جب خالدؓ بن ولید اور عمروؓبن عاص نے ان کی پیٹھ پر حملہ کیا تو اکیلا اکیلا مسلمان پورے دستہ کے سامنے آگیا۔کچھ مسلمان مارے گئے اور کچھ زخمی ہوگئے اور باقیوں کے پاؤں اکھڑ گئے خصوصاً جب حملہ کرتے کرتے دشمن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کے پاس اس وقت صرف بارہ آدمی تھے۔ان دونوں جرنیلوں یعنی خالدؓ بن ولید اور عمروؓ بن عاص نے اپنے دوسرے افسروں کو بھی اطلاع کر دی تھی کہ تم بھی حملہ کر دو چنانچہ تین ہزار کا لشکر ریلا کرتے ہوئے آگیا اس وقت دشمن کی طرف سے پتھراؤ ہورہا تھا تیر برس رہے تھے تلواریں چل رہیں تھیں اور تمام اسلامی لشکر میں ایک بھاگڑ اور کھلبلی مچی ہوئی تھی ایسی حالت میں صحابہ ؓ نے بے نظیر قربانیاں