تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 143
سکتی۔مکہ میں آپ کو ایک محلہ کی بھی تنظیم کا موقعہ نہیں ملا تھا مگر یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا آپ پہلے ہی بادشاہ تھے اور تنظیم کا دیرینہ ملکہ رکھتے تھے۔چنانچہ وہ مدینہ والے جو ہر وقت دوسرے قبائل سے پٹتے رہتے تھے اور کمزور سمجھے جاتے تھے اس تنظیم کی بدولت عرب کی ایک بڑی طاقت بن گئے۔( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام باب ھجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم) (۱۳) پھر لڑائیاں شروع ہوئیں تو ان میں آپؐنے غیر معمولی بہادری کا ثبوت دیا۔اگر آپ حکومت ملنے سے پہلے فوت ہو جاتے تو لوگ سمجھتے کہ آپ کمزور تھے۔اس لئے آپ نے دکھوں کو بر داشت کر لیا مگر حکومت ملنے کے بعد آپ نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ میرا معاف کرنا کمزوری کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وسعت حوصلہ کی وجہ سے تھا۔آپ جب مدینہ تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے اپنی ذلت محسوس کر کے آپ کے چاروں طرف لشکر پھیلانے شروع کر دیئے جس کی وجہ سے آپ کو بھی ان کے مقابلہ کے لئے نکلنا پڑا لیکن ان لڑائیوں میں بھی آپ نے بےمثال نمونہ قائم فرمایا۔بڑے بڑے بادشاہ بھی شب خون مار لیتے ہیں لیکن آپ نے کبھی شب خون نہیں مارا۔آپ کی غیر معمولی ذہانت کا ایک بڑا نمونہ اس میں ملتا ہے کہ آپ نے آٹھ سال تک لڑائیاں کیں اور درجنوں کیں مگر ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حملہ کیا ہو اور کفار کو پتہ لگ گیاہو اور ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا جب کفار نے حملہ کیا ہو اور آپ کو پہلے پتہ نہ لگ گیا ہو۔کتنی بڑی ذہانت ہے کتنی بڑی ہو شیاری ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ کفار نے خود حملہ کی تیاریاں کیں اور آپ کو پتہ لگ گیا۔بنی مصطلق نے ایک لشکر تیار کیا اور جنگی تیاریاں مکمل کر لیں تا کہ آپ پر اچانک حملہ کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دس بارہ منزل پر تھے مگر وہ تو ابھی تیاریوں میں مشغول تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی مصطلق پر اس حالت میں حملہ آور ہو گئے کہ ان کی عورتیں ابھی آٹا گوندھ رہی تھیں اور ان کو اس حملے کا خیال تک نہ تھا(البدایۃ والنـھایۃ غزوۃ بنی المصطلق ) پھر آپ جب فتح مکہ کے لئے گئے تو آپ کا یہ جانا ایسا اچانک تھا کہ کفار نے دور سے لشکر دیکھ کر ابو سفیان سے پو چھا کہ یہ کہیں اسلامی لشکر تو نہیں؟ابو سفیان نے کہا میں تو ابھی مدینہ سے آرہا ہوں ان کی تو حملہ کی کوئی تیاری ہی نہیں تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ اسلامی لشکر ہو لیکن ابو سفیان ابھی باتیں ہی کر رہا تھا کہ اسلامی سپاہیوں نے اسے گرفتار کر لیا۔مکہ والے اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ابو سفیان مدینہ گیا ہو اہے ابھی لڑائی کہاں ہو سکتی ہے۔مگر دوسرے ہی دن ایک لشکر جرار کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے۔غرض آٹھ سال کی درجنوں لڑائیوں میں کوئی بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ آپ نے حملہ کیا ہو اور دشمن کو پہلے پتہ لگ گیا ہو یا دشمن نے حملہ کیا ہو اور آپ کو