تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 144
پہلے پتہ نہ لگ گیا ہو۔اس کی مثال نہ دنیاوی تاریخوں میں ملتی ہے اور نہ مذہبی تاریخوں میں ملتی ہے۔(۱۴) پھر آپ جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کے غیر معمولی استغناء اور تقویٰ کا بھی ثبوت ملا۔آپ نے ایک ٹکڑہ زمین پسند کیا جو یتیموں کا تھا۔آپ نے اس کے مالک کو بلایا۔وہ آیا تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ زمین میرے یتیم بھتیجوں کی ہے اور میں اس کا نگران ہوں۔میرے یتیم بھتیجے خوشی سے یہ زمین آپ کو دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہم یتیموں کا مال نہیں لے سکتے۔ہاں قیمت مقرر کرو تب لیں گے۔(۱۵) دوسروں کے جذبات کا آپؐاس طرح خیال رکھتے تھے کہ جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور حضرت ابو ایوب انصاری کے مکان پر ٹھہرے تو حضرت ابو ایوب انصاری نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اوپر کی منزل میں رہیں ہم نیچے کی منزل میں رہتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں میں نیچے کی منزل میں ہی رہوں گا۔مجھے آدمی ملنے کے لئے آئیں گے تو آپ کو تکلیف ہو گی۔حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ میں یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ آپ نیچے رہیں اور میں اوپر رہوں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں میں نچلی منزل میں ہی رہوں گا۔ایک رات چھت پر غلطی سے کچھ پانی گر گیا اور یہ خطرہ محسوس ہو اکہ کہیں پانی ٹپک کر نیچے نہ چلا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ ہو۔حضرت ابو ایوب انصاریؓ اور ان کی بیوی نے فوراً اپنے لحاف اتار کر پانی میںڈال دیئے اور اس کو خشک کیا اور خود ساری رات ننگے بیٹھے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ نے فرمایا اچھا میں اوپر چلا جاتا ہوں تم نیچے آجاؤ۔گویا دونوں حالتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔پہلے آپ نے اس لئے اوپر کی منزل میں رہائش اختیار نہ کی کہ اس طرح حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو تکلیف ہو گی اور جب آپ کو ان کی ایک دوسری تکلیف کا علم ہوا تو پھر آپ نے اوپر کی منزل میں رہنا منظور کر لیا تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔( البدایۃ والنـھایۃ فصل فی دخولہ المدینۃ و این استقر منزلہ) (۱۶) اس کے بعد ہم آپ کے جذبہ توحید کو دیکھتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں آپ کا بے مثال نمونہ نظر آتا ہے۔یوں تو ہر نبی دنیا میں اسی غرض کے لئے آتا ہے کہ خدائے واحد پر ایمان قائم ہو اور دنیا کے تما م مذاہب اس کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں۔صرف عیسائیت ایک ایسا مذہب ہے جس کے پیرو آج کل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تثلیث کا عقیدہ قائم کر نے کے لئے آئے تھے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی باتوں سے جو اناجیل میں درج ہیں تثلیث کا پتہ نہیں لگتا۔بلکہ ان کا مطالعہ انسان پر اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ وہ توحید کے قیام کے لئے مبعوث