تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 142

اثر زائل ہو چکا تھا۔اس نے غلام سے کہا یہ تو مکہ کا پاگل ہے اور میرا رشتہ دار ہے اس کی باتوں میں نہ آجانا۔اس غلام نے کہا نہیں یہ پاگل نہیں۔اس کی باتیں تو نبیوں والی باتیں ہیں( السیرۃ الحلبیۃ ذکر خروج النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی الطائف ) دیکھو آپ میں کتنی خیر خواہی کا جذبہ تھا اور پھر کتنا غیر معمولی ضبط آپ میں پایا جاتا تھا۔ایک طرف آپ پر طائف والے ظلم کر رہے تھے،انہوں نے کتے چھوڑے ہوئے تھے،پتھراؤ کر رہے تھے اور دوسری طرف آپ ان کے لئے دعائیں کر رہے تھے کہ اے میرے رب تو ان پر رحم کر یہ جانتے نہیں کہ میں تیرا نبی ہوں اگر جانتے تو یہ کام نہ کرتے۔(۱۰) پھرجب صحابہؓ پر ظلم ہوئے تو آپ نے کتنی خیر خواہی کا ثبوت دیا۔دوسرے لوگوں پر ظلم ہوتے ہیں تو وہ اپنے ساتھیوں کو پاس بلا لیتے ہیں تا کہ جتھہ بن جائے اور لوگ زیادہ تکلیف نہ دے سکیں۔مگر آپ نے صحابہ ؓ کو بلا کر کہا تم ہجرت کر کے حبشہ کی طرف چلے جاؤ مجھ پر جو گذرے گی گذر جائے گی۔چنانچہ اکثر صحابہ ؓ ہجرت کر گئے اور آپ صرف چند صحابہ ؓ کے ساتھ مکہ میں رہنے لگے۔( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر الھجرۃ الاولٰی الی ارض الحبشۃ) (۱۱) پھر جب ہجرت کا وقت آیا تو مکہ جیسا عزیز وطن جس کی وجہ سے آپ کے آباء و اجداد کی عزت چلی آئی تھی جس میں خانہ کعبہ تھا جس میں آپ کبھی کبھار عبادت کر لیا کرتے تھے اس کی آپ نے قربانی کی اور ایسی دلیری سے کی کہ اس حب الوطنی کی قربانی کی مثال بھی کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔آپ کو اپنے وطن سے کتنی محبت تھی یہ اس بات سے ظاہر ہے کہ جب آپ غار ثور سے نکلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا۔خدا لعنت کرے اس شہر والوں پر جنہوں نے اپنے نبی کی مخالفت کی اور اس کو شہر سے نکال دیا۔آپ ؐ نے فرمایا۔ابو بکرؓ ایسا مت کہو۔پھر آپ نے مکہ کی طرف دیکھا اور فرمایا اے مکہ! تو مجھے بہت ہی پیارا ہے۔مگر تیرے بسنے والوں نے مجھے یہاں رہنے نہیں دیا۔کیسی اعلیٰ درجہ کی حب الوطنی کی مثال ہے جو آپ ؐ نے پیش کی ہے۔مگر پھر اس محبت کو خدا تعالیٰ کے لئے کس دلیری اور جرأت کے ساتھ قربان کر دیا۔(۱۲) پھر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کی عقل کا کمال ظاہر ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جاتے ہی مدینہ والوں کی تنظیم کی۔انہیں اکٹھا کیا اور یہودیوں سے معاہدات کئے۔تا کہ ان کی شرارتوں کا سدِّ باب ہو۔اس طرح آپ کی غیر معمولی ذہانت اور دانشمندی کا ثبوت ملا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ موقع کہاں ملا۔آپ کی زندگی تو غلامی میں ہی گذر گئی۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جاتے ہی مدینہ والوں کی تنظیم کی۔یہودیوں سے معاہدات کئے۔مہاجرین کے حقوق قائم کئے اور ایسا عقل کا ثبوت دیا جس کی مثال دنیا میں نہیں مل