تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 94
ہمارے رسول کی بعثت ثانیہ مقدر ہے توہم ادھر خیر کرنے والوں کو کہیں گے کہ تم اکٹھے ہو جائو۔ادھر شر کرنے والوں کو ملائکہ تحریک کریں گے کہ تم اکٹھے ہو جائو۔اس طرح کفر و اسلام کا عظیم الشان ٹکرائو ہو گا جس میں آخر اسلام کو فتح ہو گی اور یہ سب کچھ ہم اس لئے کریں گے تا دنیا کے لوگ یہ نہ کہہ سکیںکہ ہم تو غافل رہے ہمیں تو اپنے دل کے حوصلے نکالنے کا موقع ہی نہیں ملا۔اگر ملتا تو ہم اسلام کو کبھی ترقی کرنے نہ دیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نہیں چاہتے کہ کفر کے دل میں کوئی حسرت باقی رہ جائے اسے اپنے حوصلے نکالنے کا موقع نہ ملے اور وہ کہہ سکے کہ اگر مجھے تیاری کا موقع ملتا تو میں بتا دیتا کہ اسلام دنیا میں نہیں پھیل سکتا۔ہم اسے پوری طرح موقع دیں گے اور اعمال شر کرنے والے اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوں گے۔وہ خوب سمجھتے ہوں گے کہ وہ کیا مقصد لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے کیا کیا ارادے ہیں۔اسی طرح اعمال خیر کرنے والے بھی اپنی ذمہ واریوں سے اچھی طرح آگاہ ہوں گے۔اس وجہ سے کفر و اسلام کی اس باہمی ٹکر کا جو نتیجہ نکلے گا وہ آخری اورقطعی ہو گا اور شر کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ مجھے خیر کے مقابلہ کی فرصت نہیں ملی۔فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ کے معنے ترتیب مضمون کے لحاظ سے یہ تو دینی معاملہ کی میں نے مثال پیش کی ہے اگر دنیوی مثالیں لے لو تب بھی یہ تمہیںنظر آئے گا کہ جس طرح اس زمانہ میں مختلف پارٹیوں کی صورت میں مل کر کام کیا جاتا ہے اس کی پہلے زمانہ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔مثلاً جہاں تک ظالم لوگوں کی موجودگی کا تعلق ہے یہ عنصر صرف اس زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر زمانہ میں ظالم لوگ ہوتے رہے ہیں اور ہر زمانہ میں لوگوں کو ان سے شکائتیں ہوتی رہی ہیں۔چنانچہ پہلے زمانوں میں بھی کئی ایسے نوکر ہوتے تھے جو اپنے آقائوں کو مار ڈالتے تھے۔ہزاروں واقعات ایسے پائے جاتے ہیں کہ آقا نے اپنے نوکر کو کسی بات پر گالی دی تو اس نے برا منایا اور رات کو جب وہ سورہا تھا اسے قتل کر دیا۔مگر اس کا کوئی گہرا یا دیر پا اثر نہیں ہوا کرتا تھا زیادہ سے زیادہ یہی سمجھا جاتا کہ زید کو اس کے نوکر نے قتل کر دیا ہے یا بکر کو اس کے نوکر نے قتل کر دیا ہے۔دنیا کو اس کا کوئی نتیجہ نظر نہیںآتا تھا کیونکہ یہ کام اور دوسرے کاموں میں چھپ جاتا۔مگرا س زمانہ میں جب روس میں کمیونسٹوں نے سر اٹھایا اور انہوں نے مل کر اپنے مالکوں کو مار ڈالا تو اس کا کتنا عظیم الشان نتیجہ نکلا کہ حکومت ہی بدل گئی۔اسی طرح مزدور نا خوش ہو کر پہلے زمانہ میں بھی کام چھوڑ دیا کرتے تھے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا تھا کہ دنیا میںکیا تغیر ہوا ہے لیکن اس زمانہ میں لیبر سٹرائکس کے ذریعہ سے مالکوں کی گردنیںیوں جھک جاتی ہیں کہ خدا یاد آجاتا ہے۔یہی حال سود کا ہے۔سود لوگ لیتے ہی چلے آئے ہیں لیکن اس زمانہ میںبنکو ں کے ذریعہ سے دنیا کو اس طرح قابوکر لیا گیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔